پھوٹا کیے پیالے لنڈھتا پھرا قرابا
مستی میں میری تھی یاں اک شور اور شرابا
وے دن گئے کہ آنکھیں دریا سی بہتیاں تھیں
سوکھا پڑا ہے اب تومدت سے یہ دوآبا
ان صحبتوں میں آخر جانیں ہی جاتیاں ہیں
نے عشق کو ہے صرفہ نے حسن کومحابا
ہر چند ناتواں ہیں پر آگیا جو جی میں
دیں گے ملا زمیں سے تیرا فلک قلابا
اب شہر ہرطرف سے میدان ہوگیا ہے
پھیلا تھا اس طرح کا کاہے کو یاں خرابا
دل تفتگی کی اپنی ہجراں میں شرح کیا دوں
چھاتی تو میر میری جل کر ہوئی ہے تابا
