خالد علیم ۔۔۔ کہانی کہیں ختم ہوتی نہیں

کہانی کہیں ختم ہوتی نہیں

………………
کہانی یہیں ختم ہوتی نہیں
میاں راج آنند جب مہرباں تھے
بہت بھاری بوٹوں کی قیمت ادا کرکے وہ
شہرِ گریاں سے نکلے تھے
صحرا کی تپتی جھلستی ہوئی ریت کا تجربہ اصل مقصود تھا
لیکن افسو س ہے، ان کو صحرا نشینوں کے اونٹوں کو
پانی پلانے پہ مامور رکھا گیا تھا
انھیں شہرِ گریاں سے نکلے ہوئے ایک مدّت ہوئی تھی
میاں راج آنند جب مہرباں تھے
سجیلے جواں تھے
کسی روز وہ لوٹ کر شہرِ گریاں میں آئے
تو اشکوں کی سوغات بھی ساتھ لائے
سسکتی بلکتی نگاہوں کو مہکی رُتوں کے بھی سپنے دکھائے
اپاہج زمانوں کے پامال دستورِ جمہور کے
کچھ ورق در رق زاویے بھی سجھائے
مگر ایک ایک آنکھ گریاں رہی
ایک ایک آئینہ گرد آلود منظر میں گم صم رہا
کوئی بھی عکس روشن نہ تھا
کوئی بھی آنکھ سپنوں کی تعبیر سے آشنا ہو نہ پائی
مگر ایک ایک آنکھ میں صبحِ روشن کی امید روشن تھی
ایک ایک دل سے ہزار آرزوؤں کے دیپک نمسکار
پلکوں پہ جلنے لگے تھے
کہانی یہیں ختم ہوتی نہیں
میاں راج آنند پلکوں پہ روشن نمسکار سے
عزم کی آہنی تیغ کو خوب چمکا کے
پنڈال کے سب جوانوں کے سینوں کی پُرجوش امنگوں کو
خوں گشتہ کرنے کو تیار تھے
اور پُرجوش امنگوں کا بہتا لہو کچھ زیادہ ہی بہنے لگا تھا
کہ پانی کے مانند قدموں کو چھونے لگا تھا
میاں راج آنند نے جب یہ دیکھا
لہو کا یہ سیلاب گھٹنوں تک آنے لگا ہے
ذرا دیر میں جسم بھی ڈوبنے کو ہے، بالکل نہ گھبرائے
تھوڑا سا آگے بڑھے، خوں کے سیلاب میں
گرتی لاشوں کو مہمیز دی اور پھر اور آگے بڑھے…
اور بڑھتے گئے
میاں راج آنند کتنے سجیلے جواں تھے
بہت مہرباں تھے
مگر آہ…صحرا کی تپتی جھلستی ہوئی ریت کے تجربے سے وہ
محروم ہی لوٹ آئے تھے
ان کو فقط، چند صحرا نشینوں کے اونٹوں کو پانی پلانے پہ
مامور رکھا گیا تھا
وہ جب لوٹ آئے تو پانی کی مانند بس
خوں بہانے پہ مامور رکھا گیا تھا
کہانی یہیں ختم ہوتی نہیں ،
کہانی کہیں ختم ہوتی نہیں …!!

Related posts

Leave a Comment