خالد علیم ۔۔۔ نواحِ شام کی اے سرد خو ہوائے فراغ

نواحِ شام کی اے سرد خو ہوائے فراغ جلا رہا ہوں میں اپنے لہو سے دل کا چراغ اسیرِ حلقہء مہتاب رہنا چاہتا ہوں یہ رات ڈھونڈ نہ لائے مری سحر کا سراغ ستارے آنکھ کے منظر پہ کم ٹھہرتے ہیں ہمارے ہم سخنوں کا ہے آسماں پہ دماغ کچھ اور ڈالیے ہم تشنگاں کو ضبط کی خو درک نہ جائے صراحی‘ چھلک نہ جائے ایاغ چمک اٹھے ہیں تماشائے صد وصال سے بھی ہمارے دامنِ دل پر کسی کے ہجر کے داغ نژادِ خاک سے ہوں‘ نقشِ آسماں تو…

Read More

فکرِ  نعت صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ خالد علیم

فکرِ  نعت ؐ دانائیاں تمام ہوئیں جب جہان سے اُترا نبیؐ کا نطقِ جمیل آسمان سے اِنساں کو دے گیا وہ عجب جاں گدازیاں جو لفظ بھی اَدا ہوا اُن ؐ کی زبان سے جیسے مرے حضورؐ نے کیں پاسبانیاں ممکن ہوئیں نہ اور کسی پاسبان سے سچ ہے، خدا کے بعد مقامات میں عظیم کوئی نہیں ہے میرے پیمبرؐ کی شان سے مدحت کی شاہراہ پہ کیسے رواں ہو فکر موضوع یہ بلند ہے میرے بیان سے لیکن یہ فکر ِ نعت کا ہے معجزہ کہ میں آیا یقیں…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ کہانی کہیں ختم ہوتی نہیں

کہانی کہیں ختم ہوتی نہیں ……………… کہانی یہیں ختم ہوتی نہیں میاں راج آنند جب مہرباں تھے بہت بھاری بوٹوں کی قیمت ادا کرکے وہ شہرِ گریاں سے نکلے تھے صحرا کی تپتی جھلستی ہوئی ریت کا تجربہ اصل مقصود تھا لیکن افسو س ہے، ان کو صحرا نشینوں کے اونٹوں کو پانی پلانے پہ مامور رکھا گیا تھا انھیں شہرِ گریاں سے نکلے ہوئے ایک مدّت ہوئی تھی میاں راج آنند جب مہرباں تھے سجیلے جواں تھے کسی روز وہ لوٹ کر شہرِ گریاں میں آئے تو اشکوں کی…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ ایک کہانی نئی پرانی​

ایک کہانی نئی پرانی​ تو کیا تم سمجھتے ہو کہ تم نے کہانیاں لکھنی سیکھ لی ہیں ۔بہت خوب!۔۔۔ سچی بات تو یہ ہے کہ تمھاری اکثر کہانیوں میں تمھاری اپنی ہی دہرائی ہوئی باتیں ہوتی ہیں ۔ تھوڑ ا سا مرچ مصالحہ ڈال لیا ۔ کچھ نئے معنی پر لفظوں کی نئی ترتیب کا رنگ روغن چڑ ھا لیا اور سمجھ لیا کہ تم نے کہانی لکھ لی۔ تم نے کبھی غور ہی نہیں کیا کہ تم خود بھی ایک کہانی ہو۔ ایسی کہانی کہ اگر لکھی جائے ‘…

Read More

خالد علیم

دلِ آزردہ بھی کیا خوش نظری رکھتا ہے اپنی ہر رات ستاروں سے بھری رکھتا ہے

Read More

خالد علیم

اِدھر اُدھر کی مثالوں میں ایک مَیں بھی سہی ترے عجیب سوالوں میں ایک مَیں بھی سہی

Read More

خالد علیم

اب آنکھ میں کوئی آنسو‘ کوئی ستارہ نہیں کچھ ایسے ٹوٹ کے روئے ترے وصال میں ہم

Read More

خالد علیم : مری بستی تباہی کی طرف کیوں جا رہی ہے

Read More

دریچے کی آنکھ سے ۔۔۔ خالد علیم

دریچے کی آنکھ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے پورا زور لگا کر اپنی دونوں کہنیاں بستر پر ٹکائیں ۔ کہنیوں کے بل دائیں کندھے کوبستر پر جھکا کر اپنا سر تکیے کی طرف موڑا اور آہستہ آہستہ پائوں کو کھینچتا ہوا بستر پر لے آیا۔ پھر نیم دراز حالت میں کمرے کی مغربی کھڑکی کو دیکھنے لگا۔ ٹوٹے ہوئے شیشے والے حصے سے باہر کا منظر نسبتاً صاف دکھائی دے رہا تھا۔ اجالا قدرے بڑھ گیا تھا مگر اسے یوں لگ رہا تھا جیسے یہ اجالا بھی اس کے ضمیر کے…

Read More