شبِ سیہ میں تبسم کیا حضورؐ نے، گر
تو رنگ و نور سے یک دم فروزاں ہو گیا گھر
حضورؐ آئے تو مکّہ کی ساری مائوں میں
خدا نے جشنِ ولادت منایا ، بانٹے پِسر
کسی کا نام نہ تھا کائنات میں ’’احمدؐ‘‘
نہ اور کوئی ’’محمدؐ‘‘ ہوا تھا دھرتی پر
تمھارا نام بھی نُقطوں سے ماورا رکھّا
تمھیں بھی عیب سے اللہ نے رکھّا بالاتر
پُکارے جائیں گے آدمؑ ، ’’ابو محمدؐ‘‘ سے
یہ کنّیت نہ کسی کو ملی سرِ محشر
فرشتے آپؐ کو جُھولا جُھلایا کرتے تھے
حلیمہ سعدیہؓ نے دیکھا ہو گا یہ منظر
اِسی لیے اُنھیں سائے سے پاک رکھّا تھا
کسی کا پائوں نہ آ جائے اُن کے سائے پر
یہ کیسا لحنِ تلاوت تھا آقاؐ ، کافر بھی
سیاہ راتوں میں سُنتے تھے جس کو چُھپ چُھپ کر
تمھارے ہاتھ سے پانی کے چشمے پُھوٹ پڑے
حدیبیہ میں اگر تشنہ لب رہا لشکر
بنا دیا گیا ساری زمیں کو سجدہ گہہ
تمھارے واسطے پاکیزہ ، صاف اور اطہر
اُنھی کے ہاتھ میں ہوگا لوائے حمد انیس
اکٹھے ہوں گے وہیں سب نبی سرِ محشر
