جاں کو ہر دکھ کی ہر اک غم کی دوا ملتی ہے
جب گلے آ کے مدینے کی ہوا ملتی ہے
موسم ایسا کہ گھلی جاتی ہے شبنم دل میں
خاک ایسی جسے چھولیں تو شفا ملتی ہے
نعت پڑھتے ہوئے سرشار ہوا جاتا ہوں
میری نسبت لبِ حسان سے جا ملتی ہے
آپ کی مدح کا ہوتا ہے وہاں سے آغاز
سرحدِ عقل جہاں عشق سے آ ملتی ہے
ہم بھلا کیسے نہ اس ذکر سے وابستہ رہیں
یاد سے جن کی ہمیں یادِ خدا ملتی ہے
ایک درویش نے سرور یہ بتایا ہے مجھے
عشقِ احمد میں فنا ہوں تو بقا ملتی ہے
