سلمان باسط ۔۔۔ دنیا کو میں جھٹلاتا رہا ایسا نہیں تھا

دنیا کو میں جھٹلاتا رہا ایسا نہیں تھا تُو ایسا تھا پر دل نے کہا ایسا نہیں تھا یہ سچ ہے ترے ہجر کی افتاد سے پہلے میں ایسا نہیں تھا، بخدا ایسا نہیں تھا کچھ خندہ جبیں لوگ بھی رہتے تھے یہاں پر یہ شہرِ ستم خیز سدا ایسا نہیں تھا جو میں نے کہی جانِ گماں، بات تھی کچھ اور کچھ اور تھا جو تو نے سنا، ایسا نہیں تھا میں بھی کبھی شاداب سا اک پیڑ تھا باسط یہ شاخ، یہ پتے، یہ تنا ایسا نہیں تھا.

Read More

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔۔۔ سلمان باسط

صد شکر میرا رابطہ خیرالوریٰ سے ہے آقا سے اس غلام کی نسبت سدا سے ہے جلتے ہیں آج روح میں جو ان گنت چراغ اس روشنی کا سلسلہ غارِ حرا سے ہے کیا چند سانس عمر کی نقدی پہ انحصار میری بقا  درود کے آبِ بقا سے ہے رکھا ہے شرک اور عقیدت میں امتیاز اور یہ سبق ملا بھی مجھے مصطفےٰ(ص) ہے ان کا کرم ہے آج اگر سرفراز ہوں جو بھی ملا ہے آج تک ان کی دعا سے ہے

Read More

محمد مختار علی ۔۔۔ خطاط

خطاط۔۔۔۔۔قلم ہاتھوں میں آتے ہیہماری اُنگلیاں یوں رقص کرتی ہیںکہ نُقطے، دائرے، الفیں، کشش اور زیر،زبروپیشباہم جُھومتے گاتےقلم کی بزم کو آراستہ کرتے ہیںاپنے حُسن کے جلوے دکھاتے ہیں !!ہماری خوش نویسی درحقیقت رمز ہےاک خواب کی،اک عشق کی، اک جُستجُو کی !!ازل سے تا ابد جو خالق و مخلوق کا باہم تعلّق ہےقلم سے لفظ کا بھی ہُو بہُو ویسا ہی رشتہ ہے !!ہمارے لفظ کی توقیرکُن کے دائرے کے درمیاں نُقطے میں پنہاں ہےاِسی نُقطے میں پِنہاں رمز کوہم اپنی تحریروں میں اکثر آشکارا کرتے رہتے ہیں !!ہمیں…

Read More

محمد مختار علی ۔۔۔ دِلوں سے درد ، دُعا سے اَثر نکلتا ہے

دِلوں سے درد ، دُعا سے اَثر نکلتا ہےیہ کس بہشت کی جانب بشر نکلتا ہے پڑا ہے شہر میں چاندی کے برتنوں کا رِواجسو اِس عذاب سے اب کُوزہ گر نکلتا ہے میاں یہ چادرِ شہرت تم اپنے پاس رکھوکہ اِس سے پائوں جو ڈھانپیں تو سر نکلتا ہے خیالِ گردشِ دوراں ہو کیا اُسے کہ جو شخصگرہ میں ماں کی دُعا باندھ کر نکلتا ہے میں سنگِ میل ہوں پتھر نہیں ہوں رَستے کاسو کیوں زمانہ مجھے روند کر نکلتا ہے مرے سُخن پہ تو دادِ سُخن نہیں…

Read More

نعتِ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔۔۔ محمد مختار علی

Read More

ذوالفقار نقوی ۔۔۔ سوز و سازِ زندگی کوئی تری دُھن میں نہیں

سوز و سازِ زندگی کوئی تری دُھن میں نہیں سبز رَو کوئی شجر اس حجرۂ تن میں نہیں یہ فسوں کاری چلے گی کب تلک یوں، واعظا! کیوں زباں پر لا رہا ہے جو ترے من میں نہیں جس کی شاخوں پر کوئی اجڑا پرندہ آ بسے وائے ایسا اک شجر بھی تیرے آنگن میں نہیں ہر کسی پر تنگ ہیں کچھ اس طرح ارض و سما لگ رہا ہے رفتگاں بھی اپنے مدفن میں نہیں میری مٹی میں نمی باقی نہیں، اے کوزہ گر! یا کوئی تاثیر تیرے نغمۂ…

Read More

ذوالفقار نقوی … وقت

وقت ……… ٹھنی ہے وقت سے میری برابر سرعت ِ رفتار سے دونوں چلے ہی جا رہے ہیں اپنی راہوں پر، وہ مجھ سے بات کرتا ہے، نہ میں اُس سے کبھی بولا۔ ہوائوں کو لئے سر پر، مرے شانہ بشانہ ، دوڑتا ہے، ناچتا، آنکھیں دکھاتا ہے ۔ مسلسل اُس کی نظریں گھورتی ہیں، ڈھونڈتی ہیں میرے ہاتھوں کو ، کہ جن کے سائے میں ہےٹمٹماتا سا دیا روشن ، نہ جانے کون سا فانوس ہے جس پر ! مگر صدیوں سے روشن ہے رہے گا حشر تک روشن…

Read More