تم نے تو بچھڑنے میں ذرا دیر نہیں کی کچھ دیر تو اٹھتا ہے چراغوں سے دھواں بھی
Read MoreMonth: 2021 مئی
توقیر عباس… نظم
عکس اور تحریریں ذہنوں میں جگہ بناتے ہیں وبا کے بعد ان کا بھرپور تجربہ ہوا چھینکتے پہلے بھی تھے کوئی ہم کو یاد کرتا ہے ، یہ تصور ابھرتا تھا مگر اب چھینک کی آواز خطرے کے الارم کی طرح لگتی ہے کھانستے پہلے بھی گلے کی خراش یا گھی کی پھانس سمجھتے تھے چائے پیتے گڑ کھاتے اور مزے اڑاتے تھے مگر اب کھانسی کی آواز ایمبولینس کے بلاوے کا نمبر ڈائل کرتی محسوس ہوتی ہے بخار پہلے بھی ہوا کرتا تھا رضائی اور لحاف میں قرنطینہ کرتے…
Read Moreنعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ توقیر عباس
میں بچوں کو کہانی جب سناتا ہوں مجسم صدق کی باتیں بتاتا ہوں اگر پوچھے کوئی ان کی حلیمی کا میں پیڑوں پر اسے پنچھی دکھاتا ہوں بتاتا ہوں کہ صادق تھے امیں بھی تھے میں سب کے سامنے کردار لاتا ہوں کوئی پوچھے کہ ان کی گفتگو کیا تھی میں گھر کے قمقمے سارے جلاتا ہوں حدیثِ علم کی تشریح جب پوچھیں انھیں پیڑوں پہ لگتے پھل دکھاتا ہوں سدا تشبیہِ رخسارِ مبارک میں سبھی کو مصحفِ قرآں دکھاتا ہوں مجھے جب ان کے لہجے کا بتانا ہو ملا…
Read Moreتوقیر عباس ۔۔۔ کیا آخرت کا رنج کہ بھوکے ہیں پیٹ کے
کیا آخرت کا رنج کہ بھوکے ہیں پیٹ کے ہم لوگ خوش ہیں آج بھی دنیا سمیٹ کے کتنی تھی احتیاج ہمیں آفتاب کی بیٹھے تھے کچھ پہاڑ بھی برفیں لپیٹ کے مہکا ہوا تھا روحوں میں بارِد شبوں کا غم ہم لوگ کاٹتے رہے دن ہاڑ جیٹھ کے ہم سامنے تھے میز پہ اک دکھ کے ساۓ تھے بس نقش دیکھتے رہے خالی پلیٹ کے ٹھوکر لگی تو صف کی طرح جسم کھل گئے اک سمت رکھ دیے تھے کسی نے لپیٹ کے رکھا تھا رات بھر ہمیں بے…
Read Moreذوالفقار نقوی
سلمان باسط
محمد مختار علی
فائق ترابی
تبسم کاشمیری
سلمان باسط ۔۔۔ فقط نیستی ہو
فقط نیستی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی دن زمانے سے باہر ملو گر تو تم کو بتاؤں کہ کتنے فسانے ہیں جو نارسائی کے دکھ سے جُڑے ہیں تمہیں یہ بتاؤں یہ جینا بھی انفاس کی آمدو شد نہیں ہے یہ اک دھونکنی ہے جو بس چل رہی ہے چلی جا رہی ہے بڑی کج روی سےبہے جا رہا ہے مری عمرِ پیہم کا ظالم بہاؤ کسی روز آؤ مگر یوں نہ ہو تم کسی روز آؤ تو دیکھو میں دیوارِ جاں کے پرے جا بسا ہوں جہاں پر نہ تم ہو…
Read More