دمِ آخر یہ سلطانی بنی ہے بڑی مشکل سے آسانی بنی ہے پرندے جا بسے جغرافیے میں ڈرائنگ بک پہ ویرانی بنی ہے کہیں صحرا کہیں دریا بنے ہیں کہیں پر رات کی رانی بنی ہے میں سمجھا تھا پکارے گی مجھے بھی مگر دنیا تو انجانی بنی ہے بظاہر اک پہاڑی سامنے تھی لگایا ہاتھ تو پانی بنی ہے
Read MoreMonth: 2021 ستمبر
اعجاز رضوی ۔۔۔ سانس کی طرح تو ضروری ہے
سانس کی طرح تو ضروری ہے اور پھر چارسو ضروری ہے کونجیں اُتریں گی اور بولیں گی دشت میں آب جُو ضروری ہے عشق نام و نسب نہیں جپتا اس لیے اللہ ہو ضروری ہے جب مقابل ہو کوہِ طور تو پھر دل سا انگار خو ضروری ہے تجھ سے ملنا کوئی ضروری نہیں بس تری جستجو ضروری ہے
Read Moreرضا اللہ حیدر ۔۔۔ دل کی بستی میں وہ مہماں نہ ہوا تھا پہلے
دل کی بستی میں وہ مہماں نہ ہوا تھا پہلے اس طرح درد کا درماں نہ ہوا تھا پہلے اشک پلکوں پہ ستاروں کی طرح اٹکے ہیں شہر میں ایسے چراغاں نہ ہوا تھا پہلے درد کی طرح تہِ آب رہا درد مگر جس طرح آج ہے عریاں ، نہ ہوا تھا پہلے اس کو آنکھوں میں بسے خواب کی تعبیر ملی اس کا چہرہ یوں گلستاں نہ ہوا تھا پہلے پھر مری فکر کی دہلیز پہ موتی چمکے یہ اُفق رنگِ شبستاں نہ ہوا تھا پہلے
Read Moreاحمد جلیل ۔۔۔ ملے گا کیسے درختوں کی ٹھنڈی چھائوں سے
ملے گا کیسے درختوں کی ٹھنڈی چھائوں سے وہ شہر آ تو گیا ہے بچھڑ کے گائوں سے بتا رہے ہیں دھوئیں کی لکیر کے تیور چراغ لڑتا رہا دیر تک ہوائوں سے مری زمین سے بہتر کوئی جہان نہیں میں لوٹ آیا ہوں اجڑی ہوئی خلائوں سے مفاہمت کسی فرعون سے نہیں کی ہے اُلجھتے آئے ہیں ہر دور کے خدائوں سے حسینیت کا علم جو اُٹھا کے چلتے ہیں جلیل ڈرتے کہاں ہیں وہ کربلائوں سے
Read Moreآفتاب محمود شمس ۔۔۔ پھر کسی نے وہ کہاں شاداب دیکھے
پھر کسی نے وہ کہاں شاداب دیکھے پھولوں نے جب تتلیوں کے خواب دیکھے جن کی لہریں اپنی جاں میں گم گئی تھیں ہم نے دریا ایسے بھی پایاب دیکھے اس وجہ سے ہم نے آنکھیں موند لی ہیں کس کو فرصت اِن میں ڈوبے ، آب دیکھے کرگسوں کو تھی میسر بادشاہی جھونپڑی میں پلتے یاں سرخاب دیکھے وہ نہیں ہوں جو زمانہ کہہ رہا ہے مجھ کو دیکھے ، پھر وہ سب ، القاب دیکھے رات سوتی ہے سکوں سے اِس نگر میں شمس ہم کو کون اب…
Read Moreشوکت محمود شوکت ۔۔۔ دو غزلیں
بھول کر تلخیٔ حالاتِ زبوں ، بولتے ہیں برسرِ دار و رسن ، اہلِ جنوں ، بولتے ہیں پھر زمانے پہ تسلّط ہے کسی سامری کا شہر در شہر یہ اثراتِ فسوں ، بولتے ہیں ہم جو بولے تو سبھی اہلِ قضا بول اُٹھے بولنے والے اگر بولیں تو یوں بولتے ہیں پیش آتی ہے جہاں ، بیعتِ طاغوت کی بات پھر وہاں ، نام و نسب ، غیرت و خوں بولتے ہیں اہلِ دنیا کی نظر میں ہیں وہ شاعر ، شوکت لے کے جو سوزِ جگر سوزِ دروں…
Read Moreحمد باری تعالیٰ ۔۔۔ حسن عسکری کاظمی
یہ سچ ہے بلندی پہ ترا عرشِ بریں ہے ہم نے تو جہاں تجھ کو پکارا تو وہیں ہے نظارہ عجب حضرتِ آدمؑ کا دکھایا اک حکم پہ سجدے میں فرشتوں کی جبیں ہے کل انبیا بھیجے گئے جو تیری طرف سے اس ایک حوالے سے مقدس یہ زمیں ہے ممکن نہیں بندوں سے تو برتے کبھی اغماض تجھ سا کوئی مونس، کوئی غمخوار کہیں ہے؟ اک حرف ہے لا جس سے شناسا کیا تو نے میں بندہ ہوں تیرا مرے ہونٹوں پہ نہیں ہے تو ہر جگہ موجود ہے…
Read Moreآصِف عمران ۔۔۔ ہم سُخن ہُوئے خواب
ہم سُخن ہُوئے خواب رات کاپچھلا پہر ہے اور گلی میں سناٹا زرد چاندنی کی چادر اوڑھے گہری نیند سو رہا ہے۔مَیں پلنگ پر لیٹا سوچ رہا ہُوں کہ مجھے نیند کیوں نہیں آرہی۔ یہ نیند کا پرندہ روشندان میں بیٹھا گھر کے دروازے پرنظریں جمائے کِس کے اِنتظار میں ہے جب کہ گھر کے ہر کمرے میں نیند بھری سانسوں کا پکا راگ ہر فردکے پلنگ پر بیٹھا میرے ساتھ جاگ رہاہے۔اِس راگ میں چند سانسوں کی تکرار سماعتوں میں گونج بن کر اپنی لَے پر رقص کر رہی…
Read Moreحمزہ حسن شیخ ۔۔۔ رحیمو کی ریڑھی
رحیمو کی ریڑھی پارک میں بہت رش تھا اور ہر سو لوگوں کا ہجوم تھا۔ موسیقی اونچی آواز میں بج رہی تھی اور کتوں کی بھونک اس کا ساتھ دے رہی تھی۔ ماحول خوشگوار تھا اور ہر چہرہ خوشی سے بھرپور۔ انسانوں اور کتوں کا جمگھٹا آپس میں گھل مل چکا تھا۔ موٹے اور طاقتور مالکان اپنے کتے سنبھالنے میں مگن تھے۔ انھوں نے اپنے کتوں کی ڈوریں سنبھال رکھی تھیں لیکن کتے اتنے بڑے تھے کہ وہ ان کو سنبھالنے میں ناکام نظر آتے تھے۔ پارک کے ایک کونے…
Read Moreعمران الحق چوہان ۔۔۔ علی اصغر عباس: خواب زاد
علی اصغر عباس: خواب زاد ہر انسان کی طرح علی اصغر عباس کی شخصیت کے بھی کئی پہلو ہیں۔ ادبی و علمی حوالے سے وہ شاعر ہیںاور صحافی بھی۔ صحافت میں وہ اداریہ نویسی، کالم نگاری، انٹرویو سے لے کر رسائل کی ادارت تک کے تناظر میں اپنی جداگانہ پہچان اور نام رکھتے ہیں۔ ادب میں انھوں نے شاعری کے علاوہ افسانہ نگاری بھی کی لیکن شاعری اور افسانہ نگاری میں سوتنوں والا بیر ہے۔ ایک موڈ کے طابع ہے تو دوسری مشقت کی متقاضی۔ ایک میں بات کنائے میں…
Read More