علی اصغر عباس کی نظم اور اس کے مضمرات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے تو علی اصغر عباس کی نظموں کے بارے میں چند باتیں کرنا ہیں۔ نظم کی قرأت ممکن ہے کچھ لوگوں کے لیے آسان ہو لیکن میرے لیے ایک مشکل کام ہے۔مجھے یہ بھی کہنے میں عار نہیں ہے کہ کسی بھی زبان میں جن الفاظ کو طے شدہ معانی کے ساتھ معمول بنا لیا جاتا ہے، وہ اطلاع یا معلومات سے زیادہ عادت بن جاتے ہیںاور کوئی بھی شخص یہ حقیقت بیان کر سکتا ہے جب زبان کا ایک…
Read MoreMonth: 2021 ستمبر
اعجاز روشن ۔۔۔ راستے میں چھپے ہیں کئی راستے
راستے میں چھپے ہیں کئی راستے مذہبی راستے منطقی راستے چاہ منزل کی کوئی رہی ہی نہیں آگہی بن گئے ہیں یہی راستے تیسرا تو کوئی راستہ ہی نہیں دوستی راستے ، دشمنی راستے ہجر میں کائناتیں بھی ٹھوکر لگیں وصل ہو تو کریں شاعری راستے تیری یادوں کو منزل بنا لیتے ہیں ہم سے کرتے ہیں جب سرکشی راستے ہم فرشتوں سے افضل تھے روشن کبھی کھا گئے ہیں ہمیں سرسری راستے
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ حسن عسکری کاظمی
میں زیرِ گنبدِ خضرا جو اشک بار ہوا خزاں رسیدہ شجر تھا جو پُربہار ہوا یہی تو حاصلِ صدق و صفا ہے اہل نظر! کہ عاشقانِ نبیؐ میں مرا شمار ہوا میں کیسے لائقِ بخشش ہوا یہ وہ جانیں کہ میرا اُنؐ کی شفاعت پہ انحصار ہوا مدینہ مرکزِ ایمان و آگہی ٹھہرا کہ انتخابِ رسالت یہی دیار ہوا وہ جس کے سینے میں تنویرِ عشق ہے آقاؐ رہِ مدینہ میں زائر وہی غبار ہوا اسی نے آپؐ کے حُسنِ عمل کو سمجھا ہے وہ خوش نصیب کہ بندوں سے…
Read Moreحسن عسکری کاظمی ۔۔۔ جبینِ وقت پہ ابھرے اذیتوں کے نشاں
جبینِ وقت پہ ابھرے اذیتوں کے نشاں کہ رزقِ آتش و آہن ہیں فرحتوں کے نشاں کہاں سے آگیا تیشہ ہوا کے ہاتھوں میں شجر شجر کے بدن پر ہیں ضربتوں کے نشاں مہکتی شام نے اوڑھا اداسیوں کا لباس کہ چھا گئے ہیں ہر اک سمت ظلمتوں کے نشاں حصارِ ذات سے باہر بھی آکہ بات بنے کہیں کھنڈر نہ بنیں اپنی عظمتوں کے نشاں عجب نہیں کہ ہوائوں کے رُخ پہ چل نکلیں کہ ہم میں اب نہیں اگلی سی سیرتوں کے نشاں کھلی فضائوں میں گھٹنے لگا…
Read Moreیعقوب پرواز ۔۔۔ خود سوچ لو کہ مسئلہ کیسا ہے سامنے
خود سوچ لو کہ مسئلہ کیسا ہے سامنے پیچھے عدو کی فوج ہے ، دریا ہے سامنے آنکھیں بضد کہ بھیڑ میں کھویا ہوا ہے وہ دل کہہ رہا ہے دیکھ وہ تنہا ہے سامنے کب تک رہو گے ہوش میں اے دل گرفتگاں اک حشر خیز قامتِ زیبا ہے سامنے کیوں چھیڑیئے قیامتِ رفتہ کا تذکرہ مت بھولیے کہ محشرِ فردا ہے سامنے آخر کوئی تو ہے مری تشویش کا سبب آدھا سفر تو کٹ گیا ، آدھا ہے سامنے سیدھے سبھائو بات بھی کرتا نہیں ہے وہ پرواز…
Read Moreرشید آفرین ۔۔۔ رات کو کہنے لگیں ہم رات کیا ممکن نہیں؟
رات کو کہنے لگیں ہم رات کیا ممکن نہیں؟ ہو ہمارے لب پہ ہر سچ بات کیا ممکن نہیں؟ دم بدم ہو پیار کی برسات کیا ممکن نہیں؟ اس قدر بدلیں یہاں حالات کیا ممکن نہیں؟ بدگماں اک دوسرے سے ہو نہ پائیں دل کبھی ذہن سے مٹ جائیں سب خدشات کیا ممکن نہیں؟ مطمئن اور مست اپنے حال میں ہو ہر کوئی دور ہو جائیں سبھی خطرات کیا ممکن نہیں؟ آئو مل کر بانٹ لیں آپس کے سارے رنج و غم آخرش ہو جائیں کم صدمات کیا ممکن نہیں؟…
Read Moreشوکت محمود شوکت ۔۔۔ نوائے درد
اے دلِ مضطر بتا ، جا کر سکوں پائیں کہاںاس جہانِ آب و گِل کو چھوڑ کر جائیں کہاں اب یہاں پر چاہتوں کی محفلیں باقی نہیںمائلِ الطاف پہلے کی طرح ساقی نہیں ظُلم کی چکّی میں پِستے چار سُو انسان دیکھشش جہت پھیلا ہواہے موت کا سامان دیکھ کاشمر ہو یا فلسطیں یا مرا بغداد ہوخطّۂ مسلم ہمیشہ زیرِ استبداد ہو بن چکا شیوہ ، چھپانا صدق کو ، حق بات کوچاپلوسی کے سبب ، ہم دن بتائیں رات کو سلب اپنی قوتِ گفتار ، گویا ہو گئیزندگانی ،…
Read Moreجمیل یوسف ۔۔۔ قائد اعظمؒ
قائد اعظمؒ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اب بھی قوم کے سینے میں دل بن کر دھڑکتا ہےہماری آرزوئوں میں وہ اب بھی رنگ بھرتا ہےوہ فردوسِ بریں سے آج بھیارضِ وطن پرروشنی بن کر اُترتا ہے ہلاکت خیز تاریکی میں وہ خورشید کی صورتمسلمانوں کے دل میں آخر ی اُمید کی صورتاک آنے والے زریں عہد کی تمہید کی صورت غلامی کی شبِ تاریک کو اُس نے مٹا ڈالاوہ آزادی کی صبحِ عید بن کر سامنے آیا یہ اس کا جذبِ کامل تھا یہ اس کا عزمِ راسخ تھایہ اس کی عظمتِ کردار تھی…
Read Moreمحمد انیس انصاری ۔۔۔ اس کنول فام کو پہلو سے گزرتے دیکھا
اس کنول فام کو پہلو سے گزرتے دیکھا پھر وہ دن آیا ، ان آنکھوں میں اُترتے دیکھا آخری بار ، یہ دل اُس کی پناہوں میں ملا پھر افق پر نہ یہ سورج سا اُبھرتے دیکھا شہرِ آذر میں نہ تھا ہم سے وصال آسودہ روز پتھر پہ تجھے ہنستے ، سنورتے دیکھا زندگی اُڑ گئی جنگل کی ہوا کی مانند اِس نے مجھ آبلہ پا کو نہ ٹھہرتے دیکھا شام کے پہلے ستارے کی تمنا میں انیس! بارہا قافلۂ شوق بکھرتے دیکھا
Read Moreمحمد انیس انصاری ۔۔۔ عقیدت
شہرِ نبیؐ ، اے شہرِ ضیافات ، مرحبا! آقائےؐ دو جہاں کی مدارات ، مرحبا! پھیلے ہوئے ہیں جابجا دامانِ سائلاں سرکارؐ کی سخاوت و خیرات ، مرحبا! صدیوں کی داستان سناتی رہیں مجھے شہرِ جمال، تیری زیارات ، مرحبا! بابِ بقیع ، گنبدِ خضرا ، یہ جالیاں اللہ رے یہ ارفع مقامات ، مرحبا! کیسے بیاں ہو عالمِ تسکین و جذب و کیف اس شہرِ آرزو کی عبادات ، مرحبا! رہ جائے اَن کہی نہ کوئی بھی دمِ وداع اے ابرِ چشمِ جاں ، تری برسات مرحبا! ہیں محوِ…
Read More