گلزار بخاری ۔۔۔ سائے

تجھ کو دیکھا ہے دھوپ میں جلتے جی جلاتا ہے اضطراب ترا آگ سے کم نہیں ہے گرمی بھی جس نے جھلسا دیا شباب ترا کندنی رنگ ہو گیا ایسا خستہ ہے خال و خد کی زیبائی چاند زیرِ غبار ہو جیسے تیرے چہرے کا حال ہے ایسا جیسے مرجھا گیا ہو پھول کوئی شاخِ زیتون تازگی کھوئے اور ہو فاختہ ملول کوئی تجھ کو تکلیف سے بچا لیتے دکھ سے امن و امان بن جاتے ڈھال بنتے تری تمازت میں کاش ہم سائبان بن جاتے جن کو دنیا درخت…

Read More

گلزار بخاری ۔۔۔ گیت

آنکھیں بھید بتا دیتی ہیں لاکھ چھپانا چاہو پھر بھی اپنا آپ دکھا دیتی ہیں آنکھیں بھید بتا دیتی ہیں سیہج سجے جب من کی کیاری اندر کھلتی ہے پھلواری سانسیں مہک لٹا دیتی ہیں آنکھیں بھید بتا دیتی ہیں پیار سکھا دیں انسانوں کو شوق ہوا دے ارمانوں کو سوئے خواب جگا دیتی ہیں آنکھیں بھید بتا دیتی ہیں میٹھے بول حلاوت لائیں مہر محبت جہاں سے پائیں دامن کو پھیلا دیتی ہیں آنکھیں بھید بتا دیتی ہیں قربت چاہے روکے دوری نفرت ہو یا ہو مہجوری ہر دیوار…

Read More

طالب انصاری ۔۔۔ کتنی آسانی سے کہسار اُٹھا لیتا ہوں

کتنی آسانی سے کہسار اُٹھا لیتا ہوں میں ترے عشق کا آزار اُٹھا لیتا ہوں ہار جاتا ہے مرے ظرف سے سیلِ گریہ میں تو پلکوں پہ یہ انبار اُٹھا لیتا ہوں چھوڑ دیتی ہے جسے عشق سمجھ کر دنیا میں وہی سنگِ گراں بار اُٹھا لیتا ہوں موسمِ گُل کا میں رستا نہیں دیکھا کرتا عجلتِ شوق میں بس خار اُٹھا لیتا ہوں مجھ کو پیڑوں سے گزارش نہیں کرنا پڑتی اپنے حصے کے میں اثمار اٹھا لیتا ہوں اک جھلک بھی جو میسر نہیں ہوتی طالب سر پہ…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ ذکی طارق

جو ہے دکھ درد میں مبتلا چل چل نبی کے دیارالشفا چل جیسے چلتے تھے اصحابِ آقا اْس طرح زیست کا راستہ چل آج دل مضطرب ہے بہت ہی کر لیں آ ذکرِ صلِ علٰی چل ہوگا عرفان عشقِ محمدؐ راہِ سنت پہ یونہی چلا چل مصطفٰے کے طفیل المدد رب راہ مشکل ہے کرتا دعا چل رہبرِ وقت اک کہکشاں دے جیسے چلتے تھے میرے شہا چل نقشِ پا ہیں نبی کے یہاں پر یہ مدینہ ہے بچ کر ذرا چل

Read More

راحت سرحدی ۔۔۔ موسم کا ارادہ ہے خطرناک خدا خیر

موسم کا ارادہ ہے خطرناک خدا خیر بارود نہ بن جائے کہیں خاک خدا خیر آتے ہیں نظر اب تو پرندوں کی جگہ پر اْڑتے ہوئے پتے خس و خاشاک خدا خیر اْس حسن سے بپھرے ہوئے لشکر کے مقابل میں اور مرا پیراہنِ صد چاک خدا خیر خود اپنے بنائے ہوئے بت توڑ کے دیکھو گردوں پہ پہنچنے کو ہے ادراک خدا خیر نکلا نہ اندھیرے سے مری صبح کا سورج بے کار گئی گردشِ افلاک خدا خیر اُس شہر کا بچنا بڑا دشوار ہے راحت ہر آنکھ جہاں…

Read More

رخسانہ سمن ۔۔۔ وہ جو خوابوں کے سلسلے تھے میاں

وہ جو خوابوں کے سلسلے تھے میاں کیسے بن کر بکھر گئے تھے میاں تم خریدار ہی نہ تھے ورنہ ہم تو بے دام بک رہے تھے میاں راستے خود بخود بدلتے رہے اور ہم تم سے آ ملے تھے میاں اذنِ قربت میں کتنی دیر ہوئی ہم تو صدیوں سے جا چکے تھے میاں قافلہ دل کا لٹ گیا تھا وہیں جب نگہبان تم ہوئے تھے میاں

Read More

ریاض رومانی ۔۔۔ تعلق توڑ کر سود و زیاں سے

تعلق توڑ کر سود و زیاں سے ہم آگے چل رہے تھے کارواں سے ہم ایسے موڑ پر آکر کھڑے ہیں کئی رستے نکلتے تھے جہاں سے زمیں پر کِس قیامت کی گھڑی ہے کوئی دیکھے تو جھک کر آسماں سے جدائی کی کہاں سے اِبتدا ہو تعلق کی رگیں کھینچیں کہاں سے تعلق توڑنا مشکل نہیں ہے بس اِک دیوار اُٹھے گی یہاں سے فلک والو! ہمارا عجز دیکھو کہ ہو کر آگئے ہیں لامکاں سے بنایا پہلے مجھ کو خوب اونچا پھِر اُس نے توڑ ڈالا درمیاں سے…

Read More

انصررشید انصر ۔۔۔ در کو دیوار کر لیا جائے

در کو دیوار کر لیا جائے رستہ ہموار کر لیا جائے پھر سے تعمیرِ نو کریں دل کی پھر سے مسمار کر لیا جائے کل جو کرنا تھا ایک وعدہ وفا آج ہی یار کر لیا جائے شام ہوتے ہی دیپ جلتے ہیں دل کو دربار کر لیا جائے ظلمت شب کے ختم ہونے تک خود کو بیدار کر لیا جائے اب تو انصر ہر اک تمنا سے خود کو بیزار کر لیا جائے

Read More

سید الطاف بخاری ۔۔۔ دو غزلیں

ہم نے جب اُن سے پہلی ملاقات کی آخری بات تھی وہ جو اک بات کی چاند سورج ستارے سبھی پا لئے چھٹ نہ پائی مگر تیرگی رات کی خونِ دل سے لِکھی داستانِ سفر ہم نے کاغذ پہ اشکوں سے برسات کی حُسن کے ناز کو جس نے گھائل کیا کِرچیاں تھیں وہ میرے خیالات کی زندہ لوگوں سے اُن کے مکاں چھین کر ہو رہی ہے سجاوٹ مزارات کی جشن مل کر منائیں نہ کیوں موت کا سوگواری تو بدلے گی حالات کی تم نے الطاف دل کھول…

Read More

ارسلان ساحل ۔۔۔ دو غزلیں

نفسا نفسی کی اس روانی میں بہہ گیا ہے خلوص پانی میں دکھ مکمل وجود رکھتے ہیں نامکمل سی زندگانی میں میں مُقلد ہوں قیس کا یعنی عمر گزری ہے رایگانی میں قصہ گو کب کا مر چکا لیکن ریل چلتی رہی کہانی میں ہم قلندر مزاج لوگوں کو لطف آتا ہے بے مکانی میں راج کرتی ہے اک سخن زادی میری غزلوں کی راجدھانی میں امتحاں لاکھ ہیں مگر ساحلؔ عشق لازم ہے زندگانی میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رتجگوں کا سماں رات ساری رہا ، رقص جاری رہا خواہشوں کا فسوں…

Read More