احمد سجاد بابر ۔۔۔ شاخ پہ اس نے ہاتھ رکھا تھا

شاخ پہ اس نے ہاتھ رکھا تھا پیڑ کے اندر دل دھڑکا تھا چیخ شجر کی سنتا کیسے پتّہ جیون پار گرا تھا ایک کھنڈر میں یاد ہے تم کو سانجھ سویرے بس میلہ تھا خشک پڑی ہے دل کی ٹہنی صدیوں پہلے پھول کھلا تھا آدھی رات کاچاند تھا پورا بے کل، تنہا، اک سایہ تھا خالی گھر کی ٹوٹی چھت پر جلتا بجھتا ایک دیا تھا دروازے کی اوٹ سے کوئی بابر چھپ کے دیکھ رہا تھا

Read More

نعتؐ ۔۔۔ سرور حسین نقشبندی

وہ خدا آشنا نہیں ہوتا جو بشر آپؐ کا نہیں ہوتا کیا خبر اس کو دلکشی کیا ہے جو مدینے گیا نہیں ہوتا سبز گنبد سے جو کشید نہ ہو رنگ وہ دیرپا نہیں ہوتا سبز کھڑکی کہیں سے کھلتی ہے جب کوئی راستہ نہیں ہوتا خاک اڑتی مری زمانے میں میں اگر آپؐ کا نہیں ہوتا اس کو شاہی کے ڈھب نہیں آتے جو بھی اُنؐ کا گدا نہیں ہوتا جب درودوں کے تار چھڑ جائیں پھر کوئی فاصلہ نہیں ہوتا سیرتِ شہؐ سے لو لگائے بغیر طے کوئی…

Read More

علی حسین عابدی ۔۔۔ دو غزلیں

روح کو جِسم سے انجان نہ ہونے دینا دِل کی بستی کبھی ویران نہ ہونے دینا اپنی اولاد کو لاچار سمجھ کر اْن کی خواہشوں کو کبھی قربان نہ ہونے دینا خوب تحقیق سے کہنا غمِ ہستی پہ غزل اپنے اشعار کو بے جان نہ ہونے دینا وحدتِ عشق بھی ہے وحدتِ خالق کی مثال عشق میں شرک کا امکان نہ ہونے دینا ذات میں کشف و کرامات سمو لو لیکن دیکھنے والوں کو حیران نہ ہونے دینا عابدی دہر میں رہنا تو مسافر کی طرح مستقل ربط کا امکان…

Read More

سرور حسین نقشبندی ۔۔۔ ذکر اِلا ّاللہ

جان و دل کی بہار اِلّااللہ روح کو دے قرار اِلّااللہ ایک جلوہ دکھائی دے گا بس جب ہوا آشکار اِلّااللہ ورد کرتا ہے غور سے سُن لے سانس کا تار تار اِلّااللہ خوف و وحشت سے ماورا ہو جا صرف کہہ ایک بار اِلّااللہ چشمہء خیر لاالہ کا ورد برکتوں کا حصار اِلّااللہ عاجزی کا عروج ہے اس میں بندگی کا وقار اِلّااللہ وقت گریہ یہی وظیفہ کر دیدۂ اشکبار اِلّااللہ ایسے دل میں اتر زمانے کے دل میں سرورؔ اُتار اِلّااللہ

Read More

راحت سرحدی ۔۔۔ کہنی تو ضروری نہیں ہر بات سمجھ لے

کہنی تو ضروری نہیں ہر بات سمجھ لے صورت سے مری صورتِ حالات سمجھ لے بہروں میں بھی ممکن ہے کوئی بات سمجھ لے مجھ پر جو اتاری گئیں آیات سمجھ لے ہم جیسوں کو مرنے سے بچانے کے بہانے احباب نے کی ہیں جو عنایات سمجھ لے پارے کی طرح ٹوٹ کے جڑ جاتا ہوں پھر سے بے شک تو اِسے میری کرامات سمجھ لے تسکین نظر کو تو بہت کچھ ہے ترے پاس وہ آنکھ نہیں جو مرے جذبات سمجھ لے ہر ایک پہ کھلتے نہیں بت خانوں…

Read More

عاطف جاوید عاطف ۔۔۔ کبھی لَو بڑھی تری یاد سے ،کبھی خط پکڑ کے جلا دیا

کبھی لَو بڑھی تری یاد سے ،کبھی خط پکڑ کے جلا دیا کبھی شِدّتِ غمِ ہجر سے ترا نام لکھ کے مٹا دیا مری خاک کو نہیں چاہ اب، رہی دوسرے کسی چاک کی مرے کوزہ گر ترے ہاتھ نے جو بنا دیا سو بنا دیا دلِ سوختہ کا وہ داغ ہو یا وہ منتوں کا چراغ ہو ترے نام پر ترے بام پر جو جلا دیا سو جلا دیا یہاں تشنگی رہے جب تلک نہیں پھیرتے ہیں نگاہ کو یہاں ساقیوں میں رواج ہے جو بڑھا دیا سو بڑھا…

Read More

ذکی طارق …. اتنی کشش ہے کیونکر مولا پانی میں

اتنی کشش ہے کیونکر مولا پانی میں آخر کس کا عکس ہے ابھرا پانی میں آیا تھا آندھی کے جھونکے کی صورت جس نے اپنا گھر ہے بنایا پانی میں آجا ہم بھی قطرہ قطرہ فرحت لیں سارا عالم جب ہے ڈوبا پانی میں اترا ہے روشن چندا اس میں یا پھر اس نے اپنا کنگن پھینکا پانی میں آخر اس میں کون نہانے آیا تھا کس نے اتنا نشّہ گھولا پانی میں اب کے برس سیلاب کچھ ایسا آیا ہے ڈوب گیا ہے سارا اثاثہ پانی میں

Read More

شاہنواز زیدی ۔۔۔ یہ مت سمجھنا کہ دل سنبھالے پڑے ہوئے ہیں

یہ مت سمجھنا کہ دل سنبھالے پڑے ہوئے ہیں میاں ہمیں زندگی کے لالے پڑے ہوئے ہیں یہ خواب ہے، یا تو واقعی اس ہجوم میں ہے کہ جن کے سر خم ہیں، چہرے کالے پڑے ہوئے ہیں دکھوں کو اپنے پلٹ کے دیکھو خوشی ملے گی انھی اندھیروں کے گھر اجالے پڑے ہوئے ہیں لکھا نہیں ہے، جلا نہیں ہوں، چھوا نہیں ہے نہ جانے کیوں انگلیوں پہ چھاپے پڑے ہوئے ہیں ہمارے حق میں کوئی نہیں بات کرنے والا لبوں پہ مہریں، ہوا پہ تالے پڑے ہوئے ہیں…

Read More

انجم عثمان ۔۔۔ دو غزلیں

فقط ریگِ رواں تھی اور تنہا اک حُدی خواں تھا کہ میں تھی تھا صحرا ، آگ برساتا ہوا سورج پس ِ جاں تھا کہ میں تھی رواں تھی نیلگوںاِک گنگناتی جھیل سمتِ عشق لیکن کہیں رستے میں سدِ راہ خود میرا نگہباں تھا کہ میں تھی نہیں اترا تھا اب تک آبشاروں کی تہوں میں عکس میرا مگر لہروں کے آئینے میں کل اک چاند جُنباں تھا کہ میں تھی کہاں وہ بارگاہِ اہلِ غم کا سنگِ اسود اور کہاں میں کہ بابِ خانقاہِ شوق پر اک سایہ رقصاں…

Read More

اعجاز کنور راجہ ۔۔۔ خرد کو راس ہے ازحد خموشی

خرد کو راس ہے ازحد خموشی جنوں نے کی ہمیشہ رد خموشی نہیں بولے جہاں پر بولنا تھا ہمی سے ہو گئی سرزد خموشی لبِ اظہار پر پہرے بٹھا کر بڑھا لیتی ہے اپنا قد خموشی کٹہرے میں کھڑا ہوں اور چپ ہوں ’جوابِ جاہلاں باشد خموشی‘ لپٹ کر مال و زر میں آ رہی ہے برائے ممبر و مسند خموشی زبانِ حق پہ تالے پڑ چکے ہیں خموشی ہے کہ سو فیصد خموشی قلم تصویر کرتا جا رہا ہے بیاں کرتی ہے خال و خد خموشی مرے آرام کے…

Read More