خود کو جتنی اُڑان میں رکھنا لوٹنا بھی ہے، دھیان میں رکھنا کیا خبر کب ہدف نظر آئے تیر پیہم کمان میں رکھنا آندھیاں کب سے ان کی تاک میں ہیں مشعلوں کو امان میں رکھنا ہم نے چاہا مگر نہ تھا ممکن دھوپ کو سائبان میں رکھنا قرب ڈھل جائے گا جدائی میں فاصلہ درمیان میں رکھنا حل طلب ہیں ابھی سوال بہت ذہن کو امتحان میں رکھنا دل نہ دشمن کا بھی دُکھے گلزار بات ایسی بیان میں رکھنا
Read MoreMonth: 2021 ستمبر
نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ گلزار بخاری
سخن درماندہ ہے اظہار کو عنواں نہیں ملتا کوئی بھی لفظ ان کی شان کے شایاں نہیں ملتا اُسی دارِ شفا سے لوٹتے ہیں کامراں ہو کر جنھیں چارہ گرانِ عصر سے درماں نہیں ملتا ستارہ سعد رہ سکتا نہیں اُن سے جدا ہوکر انھیں کھوکر صدف کو گوہرِ تاباں نہیں ملتا بڑھے جب کوئی اُن کے کارواں کو چھوڑ کر آگے مسافت کے لیے اُس کو سر و ساماں نہیں ملتا کہیں خُلقِ جہاں آرا و عالمگیر سے ہٹ کر کسی کو اعتبارِ عظمتِ انساں نہیں ملتا بہت ملتے…
Read Moreآفتاب محمود شمس ۔۔۔ ’’قریۂ چھب‘‘ کا ایک دریش
’’قریۂ چھب‘‘ کا ایک دریش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سنا ہے ’’قریۂ چھب‘‘ میں ہے اک درویش محبت کے سدا جو گیت ہی گائے یقیں بن کر کھڑا ہے بے یقینی میں جو مفہومِ وفا پتھر کو سمجھائے محبت سے بھرے ہیں لفظ سارے ہی ستاروں سے ہیں روشن تر سبھی افکار بہت مدت گزرنے پر ابھی تک ہیں بصیرت کی وہ تصویریں سرِ دیوار ہے روشن تر فلک پر آفتابِ شعر مثالِ ماہ ہے ظلمت میں راتوں کی تو مرشد ہے سراپا ، پیر لفظوں کا تری بیعت میں ہے گٹھڑی خزانوں…
Read Moreنعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ سید فرخ رضا ترمذی
شہرِ سرکارِ دوعالم کی فضا کیف میں ہے ہوکے مس گنبدِ خضریٰ سے ہوا کیف میں ہے عشقِ سرور مرے سینے میں، لبوں پر ہے دعا وجد میں دل ہے مرا،حرف دعا کیف میں ہے جس طرف دیکھیے چھائی ہے گھٹا رحمت کیاس لیے شہرِ مدینہ کی ہوا کیف میں ہے درِ زہرا سے کبھی کوئی نہ پلٹا مایوسغور سے دیکھیے ہر ایک گدا کیف میں ہے نعت جو میں نے پڑھی روضۂ اطہر پہ رضا ذکرِ سرور سے مدینہ کی فضا کیف میں ہے
Read Moreسید فرخ رضا ترمذی ۔۔۔ ہر خوشی جس پہ اپنی وار آئے
ہر خوشی جس پہ اپنی وار آئے دکھ بٹانے کہاں وہ یار آئے مسکرا کر عبور دشت کیا چاہے رستے میں جتنے خار آئے کیسا آسیب ہے مرے گھر پر غم کے موسم ہی بار بار آئے عشق کے راستے میں اے فرخ زندگی کب سے اپنی ہار آئے
Read Moreسیّد مجاور حسین رضوی ۔۔۔ غالب اور اٹھارہ سو ستاون
غالب اور اٹھارہ سو ستاون ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علامہ اقبال نے کہا تھا: قوم گویا جسم ہے، افراد ہیں اعضاےقوم منزلِ صنعت کے رہ پیما ہیں دست د پاےقوم محفلِ نظمِ حکومت، چہرۂ زیباےقوم شاعر ِرنگیں نوا ہے دیدہ بیناےقوم مبتلاےدرد کوئی عضو ہو،روتی ہے آنکھ کس قدر ہم درد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ اردو کا شعری مزاج پہ رہا ہے کہ قوم کے تلوے میں کوئی کانٹا چبھا تو اس کی کھٹک اور چبھن شاعر نے اپنے دل میں محسوس کی۔اردو کا شاعر اس دیس کی مٹی سے کبھی…
Read Moreنعتِ رسولِ مقبول ؐ ۔۔۔۔ محمد افضال انجم
نعتِ رسولِ مقبول ؐ قلم کو مدحتِ خیرالانامؐ چاہیے ہے اسی میں قلب و نظر کو مقام چاہیے ہے خطاے عمر ِگزشتہ معاف ہو جائے درِ حضورؐ پہ وہ اہتمام چاہیے ہے طواف ِگنبد اخضر نگاہ کرتی رہے مجھے مدینہ میں ایسا مقام چاہیے ہے کبھی میں پیشِ رسالت مآبؐ ہو جائوں شمار انؐ کے غلاموں میں نام چاہیے ہے زبان ذکر کرے سرورِ دو عالمؐ کا یہی وظیفہ مجھے صبح شام چاہیے ہے وہ جن کے پائوں کی ٹھوکر پہ کہکشایئں ہیں مجھے تو انؐ پہ درود و سلام…
Read Moreسعید راجہ
اپنی قسمت میں کجی ایک یہی دیکھی ہے سب میسر ہے فقط تیری کمی دیکھی ہے
Read Moreسلام بحضور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ … سعید راجہ
پہلے پہل عجب لگی ہجرت حسین کی پھر مجھ کو یاد آ گئی نسبت حسین کی تھا اذن بھی, چراغ بھی گل کر دیئے گئے چھوڑی نہیں کسی نے رفاقت حسین کی کردار شرطِ خاص ہے انکار کیلئے اس کی کھری مثال ہے سیرت حسین کی کربل کی سرخ ریت پہ سجدہ ادا کیا بے مثل ہو گئی ہے عبادت حسین کی آنکھیں تو ہیں نگاہِ بصیرت کوئی نہیں کھلتی کسی پہ خاک حقیقت حسین کی ہر اک لہو کی بوند پہ لکھا ہے ان کا نام روشن ہے میرے…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ سعید راجا
نصابِ حسن و ہدایت پہ بات کی جائے حضورِ پاک کی سیرت پہ بات کی جائے کہ جس کے بعد نہ آئے گا اب نبی کوئی اسی نبی کی نبوت پہ بات کی جائے میں امتی ہوں خدا کے رسولِ ارفع کا مِرے نصیب کی رفعت پہ بات کی جائے کسی کو ضد ہے کہ تفصیل دوں گناہوں کی مُصِر ہوں میں کہ شفاعت پہ بات کی جائے میں واقعہ شبِ معراج کا سناتا ہوں جو اوجِ شانِ رسالت پہ بات کی جائے مِرے نبی کے مدینے سے ہو کے…
Read More