سعید راجہ ۔۔۔ جب ترے دل کی پناہوں میں سمٹ کر دیکھوں

جب ترے دل کی پناہوں میں سمٹ کر دیکھوں چاہتا ہوں کہ تجھے دنیا سے کٹ کر دیکھوں منتظر ہو گا سرِ راہِ تمنا کوئی میں اگر دید کی دنیاؤں سے ہٹ کر دیکھوں دل اسی طور لگاتا رہا آواز اگر عین ممکن ہے کسی روز پلٹ کر دیکھوں کچھ رعایت نہ کوئی رحم نہ جانبداری تم جو چاہو تو میں خود سے بھی نپٹ کر دیکھوں میرے ہونے کی کوئی اس میں نشانی ہو گی ایک دن وقت کی زنبیل الٹ کر دیکھوں اے مرے عکس! تو آئینے سے…

Read More

سعید راجہ ۔۔۔ میرے حصے میں ہے تقصیر کی ذمہ داری

میرے حصے میں ہے تقصیر کی ذمہ داری اور ملی ہے اسے تعزیر کی ذمہ داری شہر کا شہر ہے تخریب کے کاموں میں مگن چند کاندھوں پہ ہے تعمیر کی ذمہ داری لوگ تقدیر کے پہلو سے لگے بیٹھے تھے میں اٹھا لایا ہوں تدبیر کی ذمہ داری دل نے جو بات چھپانی ہو اسی کی بابت لی ہے کیوں آنکھ نے تشہیر کی ذمہ داری لوگ سیلاب کی لہروں میں بہے جاتے ہیں اس پہ بس جیسے ہے تصویر کی ذمہ داری جو ہمیں خواب دکھانے کے لیے…

Read More

سعید راجہ

اپنی قسمت میں کجی ایک یہی دیکھی ہے سب میسر ہے فقط تیری کمی دیکھی ہے

Read More