جب ترے دل کی پناہوں میں سمٹ کر دیکھوں چاہتا ہوں کہ تجھے دنیا سے کٹ کر دیکھوں منتظر ہو گا سرِ راہِ تمنا کوئی میں اگر دید کی دنیاؤں سے ہٹ کر دیکھوں دل اسی طور لگاتا رہا آواز اگر عین ممکن ہے کسی روز پلٹ کر دیکھوں کچھ رعایت نہ کوئی رحم نہ جانبداری تم جو چاہو تو میں خود سے بھی نپٹ کر دیکھوں میرے ہونے کی کوئی اس میں نشانی ہو گی ایک دن وقت کی زنبیل الٹ کر دیکھوں اے مرے عکس! تو آئینے سے…
Read MoreTag: Saeed Raja’s Ashaar
سعید راجہ ۔۔۔ میرے حصے میں ہے تقصیر کی ذمہ داری
میرے حصے میں ہے تقصیر کی ذمہ داری اور ملی ہے اسے تعزیر کی ذمہ داری شہر کا شہر ہے تخریب کے کاموں میں مگن چند کاندھوں پہ ہے تعمیر کی ذمہ داری لوگ تقدیر کے پہلو سے لگے بیٹھے تھے میں اٹھا لایا ہوں تدبیر کی ذمہ داری دل نے جو بات چھپانی ہو اسی کی بابت لی ہے کیوں آنکھ نے تشہیر کی ذمہ داری لوگ سیلاب کی لہروں میں بہے جاتے ہیں اس پہ بس جیسے ہے تصویر کی ذمہ داری جو ہمیں خواب دکھانے کے لیے…
Read Moreسلام بحضور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ … سعید راجہ
پہلے پہل عجب لگی ہجرت حسین کی پھر مجھ کو یاد آ گئی نسبت حسین کی تھا اذن بھی, چراغ بھی گل کر دیئے گئے چھوڑی نہیں کسی نے رفاقت حسین کی کردار شرطِ خاص ہے انکار کیلئے اس کی کھری مثال ہے سیرت حسین کی کربل کی سرخ ریت پہ سجدہ ادا کیا بے مثل ہو گئی ہے عبادت حسین کی آنکھیں تو ہیں نگاہِ بصیرت کوئی نہیں کھلتی کسی پہ خاک حقیقت حسین کی ہر اک لہو کی بوند پہ لکھا ہے ان کا نام روشن ہے میرے…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ سعید راجا
نصابِ حسن و ہدایت پہ بات کی جائے حضورِ پاک کی سیرت پہ بات کی جائے کہ جس کے بعد نہ آئے گا اب نبی کوئی اسی نبی کی نبوت پہ بات کی جائے میں امتی ہوں خدا کے رسولِ ارفع کا مِرے نصیب کی رفعت پہ بات کی جائے کسی کو ضد ہے کہ تفصیل دوں گناہوں کی مُصِر ہوں میں کہ شفاعت پہ بات کی جائے میں واقعہ شبِ معراج کا سناتا ہوں جو اوجِ شانِ رسالت پہ بات کی جائے مِرے نبی کے مدینے سے ہو کے…
Read Moreسعید راجا ۔۔۔ مدارِ عشق میں آکر کلام کرنے لگا
مدارِ عشق میں آکر کلام کرنے لگا ازل سے چپ تھا جو فرفر کلام کرنے لگا تمام ہونے لگی تھی سماعتوں کی طلب پھر ایک روز وہ پتھر کلام کرنے لگا ہمارے شہر میں قدغن تھی بات کرنے پر میں اپنے آپ سے چھپ کر کلام کرنے لگا مِری زبان کو لکنت نے آ لیا تھا مگر وہ ہنس پڑا تو میں بہتر کلام کرنے لگا درونِ چشم ذرا سی تری جھلک اتری مِری نگاہ سے منظر کلام کرنے لگا یہ کس طلسم کدے میں صدا لگا بیٹھے جواب میں…
Read Moreسعید راجہ ۔۔۔ چراغوں کو بجھایا جا چکا ہے
چراغوں کو بجھایا جا چکا ہے سو اب ہر طاق میں دھوکا دھرا ہے چمن کو سرخ مٹی چاہیے کیا مجھے پھر سے پکارا جا رہا ہے بدن میرا کبھی ایسا نہیں تھا تری قربت میں نیلا پڑ گیا ہے یہ پیشانی کے گھاؤ جانتے ہیں مرا دیوار سے جھگڑا ہوا ہے ابھی تک لوگ کیوں بیٹھے ہوئے ہیں سنا ہے آنے والا جا چکا ہے چلو اس بات کی تصدیق کر لیں مجھے ہنستے ہوئے دیکھا گیا ہے میں کب کا جا چکا ہوتا یہاں سے سعید اس نے…
Read More