یہ کیسی آگ سینے میں لگی ہے مجھے کُندن بنانا چاہتی ہے یقیناً پک رہا ہے کوئی لاوا اُداسی چارسُو پھیلی ہوئی ہے ستارے بجھ رہے ہیں رفتہ رفتہ سحر کے ساتھ کیسی تیرگی ہے جسے تم نے محبت سے چُھوا تھا وہ میری شاخِ دل اب تک ہری ہے تری رسوائی کب میں چاہتا تھا مجھے تھی کیا خبر، تیری گلی ہے تری یادوں کی اک بے تاب تتلی مری آنکھوں میں آ کر سو گئی ہے تجھے پا کر بھی کتنا مضطرب ہوں یہ کیسی بے کلی دل…
Read MoreMonth: 2021 ستمبر
ڈاکٹر شفیق آصف ۔۔۔ وہ ملا تو جانے کیوں اک شور سا برپا ہوا
وہ ملا تو جانے کیوں اک شور سا برپا ہوا بات معمولی تھی سارے شہر میں چرچا ہوا چل رہی تھیں سارے جنگل میں ہوا کی برچھیاں پاس ہی اک جھونپڑی میں دیپ تھا جلتا ہوا کل ستارے رو رہے تھے بے کسی پر جب مری چاند کو دیکھا تھا میں نے جھیل میں ہنستا ہوا جانے کب اور کس جگہ سانسوں کو آزادی ملے دُور تک اک سلسلہ ہے حبس کا پھیلا ہوا اک کھلونے کی طرح انسانیت کا ہے وجود شاہراہِ زندگی پر ٹوٹ کر بکھرا ہوا لوگ…
Read Moreرفیع الدین راز ۔۔۔ چشمِ نم تو ہے وہی لیکن ضیا کچھ اور ہے
چشمِ نم تو ہے وہی لیکن ضیا کچھ اور ہے زخمِ تازہ پر نمک کا ذائقہ کچھ اور ہے لب نہیں حسرت گزیدہ آنکھ ہے محوِ دعا اس کو آنکھوں ہی سے سنیے یہ دعا کچھ اورہے سامنے ہر پل نصابِ زیست ہے لیکن ہنوز پڑھ رہا ہوں اور کچھ لکھّا ہوا کچھ اور ہے رشتے ناتے، آشنائی، قربتیں اپنی جگہ آدمی سے آدمی کا رابطہ کچھ اور ہے جس تناظر میں اسے میری گواہی چاہیے عبد اور معبود کا وہ سلسلہ کچھ اور ہے فتح بھی دیتی رہی ہے…
Read Moreخاور اعجاز ۔۔۔ واپسی
واپسی۔۔۔۔۔زمانے!مِرے ریگزارِ تمنّامیںاِک گنبدِ خواب کے پاسکچھ پھُول رکھّے ہیںاور دو کٹورے ہیں آنکھوں کےجن میں مِرے آنسوئوں کی نمی ہےمِرے گیت ہونٹوں سے گِر کراِسی ریت میں ریت ہو کر پڑے ہیںبچھڑ جانے والوں کی یادیں ہی زندہ ہیںچہرے نہ جانے کہاں کھو گئے ہیںسلگتی ہُوئی نیند باقی ہےآنکھیں نہ جانے کہاں کھو گئی ہیںتھکن جسم کی قبر میں سو گئی ہےاُداسی مِری ہم سفر ہو گئی ہےزمانے!مِرے آخری رقص کا وقت ہےوحشتِ شوق صندل کی مانند جلنے لگی ہےرگ و پے میںاَن دیکھی دُنیا کی خواہش مچلنے لگی…
Read Moreراحت سرحدی ۔۔۔ سلام
ذکرِ شبیر سے نکل آیا خُون تحریر سے نکل آیا دیکھتا تھا فُرات وہ چشمہ جو رگِ پیر سے نکل آیا گل شدہ اک چراغِ خیمہ بھی بڑھ کے تنویر سے نکل آیا روح نکلی غبار سے دل کے جِسم زنجیر سے نکل آیا وہ شہادت کہ جس میں خوں کی جگہ نور ہر چیر سے نکل آیا اس کو تلوار نے لیا راحت بچ کے جو تیر سے نکل آیا
Read Moreمحمد نوید مرزا ۔۔۔ یوم دفاع پاکستان
یومِ دفاعِ ملک منانے کے واسطے پرچم کو رفعتوں پہ اُڑانے کے واسطے پھولوں میں اتحاد کی خوشبو ہے لازمی گلشن کی آبرو کو بچانے کے واسطے برسایئے خلوص اخوت کے کھیت پر پودے ترقیوں کے اُگانے کے واسطے روحیں یہ کہہ رہی ہیں شہیدانِ قوم کی ہو جائو ایک ملک بچانے کے واسطے مٹی میں اپنے خون کی بوندیں اُتار کر گھر سے نکل پڑے ہیں خزانے کے واسطے
Read Moreجسارت خیالی ۔۔۔ نہ خوابوں کے جزیروں میں بسر کر
نہ خوابوں کے جزیروں میں بسر کر تلاشِ منزلِ نو میں سفر کر مٹا پہلے تو ظلمت ہر طرف سے بڑے پھر شوق سے جشنِ سحر کر چھپے ہیں لعل بھی کیسے صدف میں کبھی تو دیکھ دریا میں اُتر کر گوارا ہیں یہ فاقے بھی خوشی سے ہمیں گھر سے نہ اپنے دربدر کر جو ہیں منقار زیرِ پر جسارت اُنھیں صرصر کی زد سے باخبر کر
Read Moreسید قاسم جلال ۔۔۔ لائے ہیں پیغام کسی کا مست ، نشیلے موسم
لائے ہیں پیغام کسی کا مست ، نشیلے موسم رنگ رنگیلے ، چھیل چھبیلے اور سجیلے موسم اب بجھتی سوچوں کے خالی کاسے بھر جائیں گے کرنیں بانٹ رہے ہیں اندر کے چمکیلے موسم پھر لہجوں میں تلخی کا عنصر بڑھتا جاتا ہے کانچ کی بستی میں پھر اُترے ہیں پتھریلے موسم سوچ کی دھرتی سے ہوں دور اگر پتھّر اور کانٹے رنگ بکھیریں کومل جذبوں کے شرمیلے موسم آہوں سے اکثر اندر کے طوفاں تھم جاتے ہیں غم کی آگ بجھاتے ہیں اشکوں کے گیلے موسم چاہت کے اِن…
Read Moreانعا م الحق جاوید ۔۔۔ قطعات
ہمت ہار کے مر گیا ہے ، پر بچ سکتا تھا کوشش کرتا تو اس کا پر بچ سکتا تھا تیر جب آیا اس کی سمت تو اُڑتے اُڑتے ہو کر تھوڑا نیچے اوپر بچ سکتا تھا ……٭…… وہ آبنُوس کا کُنڈا یہ زعفران کی شاخ بہت طویل ہے اس خاص داستان کی شاخ یہ وہ دیارِ محبت ہے جس میں اَب اُلٹا درخت کاٹتے پھرتے ہیں باغبان کی شاخ ……٭…… واعظ کا تو پیشہ ہے باتوں کا جال بچھانا کہہ لینے دو جو کچھ ہے اس نے کہنا کہلانا…
Read Moreعلی حسین عابدی ۔۔۔ فلسطین جل رہا ہے
ہم اکیلے ہیں ساری دُنیا میں قدر کیا ہے ہماری دُنیا میں ہے جو دُشمن ہمارا اسرائیل اِس کو امریکہ دے رہا ہے ڈھیل یہ جو بچوں پہ بم برستے ہیں پانی کی بوند کو ترستے ہیں کر دیئے ہیں ہمارے گھر برباد اب بھلا ہم کہاں کریں فریاد بچے معصوم ہو گئے ہیں شہید کیا ہمارے لیے خوشی کی نوید عورتوں کو نہیں ہے بخشا گیا اِس قدر کاری اُن پہ وار کیا ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں مکان اب ہیں آباد صرف قبرستان شِیر خواروں کو موت…
Read More