کوکی گل ۔۔۔ یہ زخمی دل ستانے لگ گیا ہے

یہ زخمی دل ستانے لگ گیا ہے مزہ جینے کا آنے لگ گیا ہے گھڑی پل کو رکو تم، اے بہارو! کوئی کانٹے بچھانے لگ گیا ہے کوئی تو ہنس رہا ہے آج لیکن کوئی آنسو بہانے لگ گیا ہے قدم رکھے چمن میں، جب سے گل نے گلوں کو ہوش آنے لگ گیا ہے شجر جو آندھیوں سے ڈر گیا تھا وہ پاؤں پھر جمانے لگ گیا ہے زمانہ چین سے کب بیٹھتا ہے مجھے پھر سے رلانے لگ گیا ہے خدا کا شکر کہ تو ہنس رہا ہے…

Read More

امجد بابر ۔۔۔ رشتوں کی لوٹ سیل

رشتوں کی لوٹ سیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رشتے اب کاغذی تعلق کی ردی میں مفت ملتے ہیں رشتے جو کبھی خون کی طرح بہتے تھے اس وقت شریانوں میں کلاٹ دھبوں کی نیلی دیواریں ہیں رشتے افسوس اور بین مل کر موت کی فتح کا اعلان آنسو بہاتے ہوئے بے چارگی کے موسم میں کرتے ہیں دو چار دنوں کے بعد سب کچھ سوکھ جاتا ہے اب رشتوں کی سیل دکھاوے کی مارکیٹ میں سارا سال جاری رہتی ہے ہم رشتوں کی اذیت کے زخموں کی مرہم پٹی کرتے کرتے کبھی تھک…

Read More

محسن رضا شافی ۔۔۔ جو کرکے رفو پیرہن ناچتے ہیں

جو کرکے رفو پیرہن ناچتے ہیں چھپانے کو دردِ کہن ناچتے ہیں ذرا بھی نہیں فکر سودوزیاں کی سرِ دار کیا بانکپن ناچتے ہیں ہُوا تذکرہ جو ترے گیسوؤں کا مرے ساتھ اہل سخن ناچتے ہیں ترے نرم ہونٹوں کی حدت میں شافی شگفتہ شگفتہ سمن ناچتے ہیں

Read More

تاثیر جعفری ۔۔۔ کون سمجھے گا زمانے میں یہ تاثیر کا دکھ

کون سمجھے گا زمانے میں یہ تاثیر کا دکھ کھا گیا دل کو مرے خواب کی تعبیر کا دکھ روز تنہائی میں دُکھڑے یہ سناتی ہے مجھے میں نے سینے سے لگا رکھا ہے تصویر کا دکھ دل ترے ہجر کے زندان سے نکلا بھی نہیں جسم کو کھائے چلا جاتا ہے زنجیر کا دکھ یہ لکیریں سی جو بکھری ہیں مرے ماتھے پر اپنی پیشانی یہ لکھ رکھا ہے تقدیر کا دکھ کس طرح اس کو سمیٹوں میں شکستہ دل میں ٹوٹتے بنتے ہوئے غم تری تفسیر کا دکھ…

Read More