ہر اک مقام پہ اچھی نہیں ہے با خبری کہیں کہیں تو ضروری ہے بے خبر ہونا
Read MoreMonth: 2022 فروری
اختر شمار ۔۔۔ سفر اس بار لمبا ہو گیا ہے
سفر اس بار لمبا ہو گیا ہے کچھ آگے کا ارادہ ہو گیا ہے اُسی دن سے ہے دل آپے سے باہر وہ جس دن سے تمنا ہو گیا ہے تمھارے بعد تبدیلی یہی ہے جو دریا تھا وہ صحرا ہو گیا ہے وہ جس کو ناز تھا اک ہم سفر پر سُنا ہے، اب اکیلا ہو گیا ہے
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ غلام حسین ساجد
خاک کا پُتلا ہوں لیکن منحرف ہوں خاک سے ہے مجھے قلبی ارادت سیّدِ لولاک سے سانس لیتا ہوں تو خوشبو سے مہک اٹھتا ہوں میں دل کی ہر دھڑکن کو نسبت ہے رسولِ پاک سے سُنبل و ریحاں ہیں اُن کے کاکُلِ پیچاں کا نقش رس ٹپکتا ہے لبِ شیریں کا شاخِ تاک سے گُنبدِ خضرا کی تابانی کا کیا مذکور ہو نور کی بارات اْتری ہے کہیں افلاک سے چُومتا ہے آپ کے قدموں کی مٹّی آسماں ماورا ہے آپ کی رفعت حدِ ادراک سے آپ کے ہاتھوں…
Read Moreزمان کنجاہی
زمان !اب روشنی کا ذکر کیسا مجھے سورج نے اندھا کر دیا ہے
Read Moreروحی کنجاہی
ہر ایک غم ہے تر و تازہ پہلے دن کی طرح امانتیں کوئی یوں بھی سنبھال کے دیکھے
Read Moreحفیظ جونپوری
میری اک بات میں ہیں سو پہلو اور سب کا جدا جدا مطلب
Read Moreعمران اعوان ۔۔۔ اب مجھے بھول، کوئی بات نہ کر، جانے دے
اب مجھے بھول، کوئی بات نہ کر، جانے دے بیتے لمحوں کے مناظر کو بکھر جانے دے رات گہری ہے یہاں تو بھی ہے، سناٹا بھی ہم چراغوں کو اندھیروں میں اتر جانے دے میں نے کچھ کام ضروری ابھی نمٹانے ہیں تیرا احسان، مرے یار! اگر جانے دے میں اگر لوٹ بھی آیا تو مجھے مت ملنا اس خرابی کو، مری جان! سدھرجانے دے تیز بارش ہے کہ سڑکوں پہ بھی پانی ہے بہت آج کی رات مجھے پاس ٹھہر جانے دے تونے آواز لگائی تو بھٹک جائے گا…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ عزیز فیصل
جہل زدوں پر علم و ہنر کے خالق نے احسان کیا اک اُمی نے غارِ حرا میں اقرا کا اعلان کیا بے نوری کے دشت میں دونوں مارے مارے پھرتے تھے میرے نبی نے قلب و نظر کی مشکل کو آسان کیا جب بھی دل بے چین ہوا تو میں نے درود شریف پڑھا دل کو اک تسکین ملی اور تازہ دم ایمان کیا میرے شفیق نبی نے ایسا لمحہ بھر بھی سوچا نئیں کس نے کتنے پتھر مارے‘ کس نے کیا نقصان کیا؟ درِنبی پر جاکر میری ہنستی آنکھیں…
Read Moreخورشید رضوی ۔۔۔ زمانے سے باہر
زمانے سے باہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زمانی تسلسل میں مَیں کام کرتا نہیں ہوں زمانے سے باہر کی رَو چاہیے میرے دل کو زمانہ تو اِک جزر ہے مَد تو باہر کسی لازماں، لامکاں سے اُمڈتا ہے قطاروں میں لگنے سے حاصل نہیں کچھ کہ وہ لمحۂ مُنتظر تو کسی اجنبی سمت سے آتے دُم دار تارے کی صورت ۔۔۔ جو صدیوں میں آتا ہے۔۔۔ آئے گا اور اِن قطاروں میں بھٹکے مداروں کو مقراض کے طور سے جانبِ عرض میں قطع کرتا نکل جائے گا زمانے کے اِس بانجھ پَن کا…
Read Moreاسحاق وردگ ۔۔۔ تیرا دربار ترا جاہ و حشم اور طرف
تیرا دربار ترا جاہ و حشم اور طرف اور درویش کا اٹھتا ہے قدم اور طرف وقت نے گھیر کے اب پھینک دیا اس جانب جو سمجھتے تھے کہ ہے راہِ عدم اور طرف شہر کا شہر بہکتا ہوا جاتا ہے کہاں؟ دھیان ہے اور طرف اور قدم اور طرف منطقی ربط نہیں ذہن کے کرداروں میں دل نے رکھا ہے کہانی کا بھرم اور طرف لفظ معنی کے طلسمات سے خالی نکلے جب زمانے نے بڑھایا ہے قلم اور طرف آئنہ خاک کا دولخت نظر آتا ہے دل کسی…
Read More