عمران اعوان ۔۔۔ جس جگہ آب نہیں ہوتا شجر ہوتے نہیں

جس جگہ آب نہیں ہوتا شجر ہوتے نہیں سوکھے دریا کے کناروں پہ نگر ہوتے نہیں کیسے نکلوں گا میں ان حبس بھری گلیوں سے شہرِ ہجراں کی فصیلوں میں تو در ہوتے نہیں تیرے جانے پہ حقیقت یہ کھلی ہے مجھ پر اپنے دِکھتے ہیں یہاں لوگ، مگر ہوتے نہیں یہ نہیں ہے کہ اکیلا ہی نکل جاتا ہوں شام کے وقت مرے دوست بھی گھر ہوتے نہیں زندگی کو جو سہاروں کے بِنا جیتے ہیں ان کی آنکھوں میں کبھی موت کے ڈر ہوتے نہیں اپنی دستار گرا…

Read More

عمران اعوان ۔۔۔ تیرا گر مان بھی نہیں ہوتا

تیرا گر مان بھی نہیں ہوتا اتنا ہیجان بھی نہیں ہوتا چھوڑ دینا کسی کو رستے میں اتنا آسان بھی نہیں ہوتا میں کسی کے بھی چھوڑ جانے پر اب تو حیران بھی نہیں ہوتا اپنی رکتی ہوئی روانی پر دل پریشان بھی نہیں ہوتا ہجر کچھ اس طرح کی ہجرت ہے ساتھ سامان بھی نہیں ہوتا جتنا میں لگ رہا ہوں چہرے سے اتنا انجان بھی نہیں ہوتا قائدے گر نہ توڑتا آدم ایک انسان بھی نہیں ہوتا خوف کے بت نہیں بناتے تو آج بھگوان بھی نہیں ہوتا

Read More

عمران اعوان

کوئی تو ہوگا جسے دیکھنے گئے ہو گےوگرنہ تم تو محافل سے دور بھاگتے تھے

Read More

عمران اعوان ۔۔۔ ایک طوفان آنے والا ہے

ایک طوفان آنے والا ہے وقت الٹا گھمانے والا ہے یہ جو صحرا دکھائی دیتا ہے اک سمندر پرانے والا ہے پھر سے بدلیں گے زاویے سارے اتنا بھونچال آنے والا ہے چھوڑ دو کشتیاں سمندر میں پانی بستی میں جانے والا ہے یہ جو پنچھی بکھر گئے سارے آسماں کچھ گرانے والا ہے مجھ کو معلوم ہے پس پردا کون فتویٰ لگانے والا ہے اتنا خاموش وہ نہیں رہتا کچھ تو سازش رچانے والا ہے جس کو آنکھوں کا نور سمجھا تھا وہ مرا گھر جلانے والا ہے

Read More

عمران اعوان ۔۔۔ ہمارا عشق بھی، سمجھی کہ بس خیالی ہے

ہمارا عشق بھی، سمجھی کہ بس خیالی ہے اسی لئے تو میں کہتا ہوں تُو نرالی ہے کبھی تو آنکھ ملا کر بھی بات کر مجھ سے یہ تو نے بیچ میں دیوار کیوں اٹھا لی ہے تو اپنے آپ سے باہر کبھی نہیں نکلی وگرنہ ایک زمانہ ترا سوالی ہے یہ زندگی بھی ترے بعد اک سکوت میں ہے جہاں پہ چھوڑ گئے تھے وہاں نبھا لی ہے پڑی ہوئی تھی جو رستے میں تیرے پاؤں کی دھول وہی سمیٹ کے دنیا نئی بنا لی ہے

Read More

عمران اعوان ۔۔۔ اپنے رستے کو موڑ سکتا ہے

اپنے رستے کو موڑ سکتا ہے جس نے جانا ہے چھوڑ سکتا ہے باغ سے پھول توڑنے والا چاہے تو دل بھی توڑ سکتا ہے زندگی بھاگتی ہی رہتی ہے آدمی کتنا دوڑ سکتا ہے آج وہ رو رہا ہے اشکوں سے جو تری آنکھ پھوڑ سکتا ہے کچھ خراشیں تو پھر بھی رہتی ہیں آئنہ کون جوڑ سکتا ہے

Read More

عمران اعوان ۔۔۔ اب مجھے بھول، کوئی بات نہ کر، جانے دے

اب مجھے بھول، کوئی بات نہ کر، جانے دے بیتے لمحوں کے مناظر کو بکھر جانے دے رات گہری ہے یہاں تو بھی ہے، سناٹا بھی ہم چراغوں کو اندھیروں میں اتر جانے دے میں نے کچھ کام ضروری ابھی نمٹانے ہیں تیرا احسان، مرے یار! اگر جانے دے میں اگر لوٹ بھی آیا تو مجھے مت ملنا اس خرابی کو، مری جان! سدھرجانے دے تیز بارش ہے کہ سڑکوں پہ بھی پانی ہے بہت آج کی رات مجھے پاس ٹھہر جانے دے تونے آواز لگائی تو بھٹک جائے گا…

Read More