عمران اعوان ۔۔۔ جس جگہ آب نہیں ہوتا شجر ہوتے نہیں

جس جگہ آب نہیں ہوتا شجر ہوتے نہیں سوکھے دریا کے کناروں پہ نگر ہوتے نہیں کیسے نکلوں گا میں ان حبس بھری گلیوں سے شہرِ ہجراں کی فصیلوں میں تو در ہوتے نہیں تیرے جانے پہ حقیقت یہ کھلی ہے مجھ پر اپنے دِکھتے ہیں یہاں لوگ، مگر ہوتے نہیں یہ نہیں ہے کہ اکیلا ہی نکل جاتا ہوں شام کے وقت مرے دوست بھی گھر ہوتے نہیں زندگی کو جو سہاروں کے بِنا جیتے ہیں ان کی آنکھوں میں کبھی موت کے ڈر ہوتے نہیں اپنی دستار گرا…

Read More