جس جگہ آب نہیں ہوتا شجر ہوتے نہیں سوکھے دریا کے کناروں پہ نگر ہوتے نہیں کیسے نکلوں گا میں ان حبس بھری گلیوں سے شہرِ ہجراں کی فصیلوں میں تو در ہوتے نہیں تیرے جانے پہ حقیقت یہ کھلی ہے مجھ پر اپنے دِکھتے ہیں یہاں لوگ، مگر ہوتے نہیں یہ نہیں ہے کہ اکیلا ہی نکل جاتا ہوں شام کے وقت مرے دوست بھی گھر ہوتے نہیں زندگی کو جو سہاروں کے بِنا جیتے ہیں ان کی آنکھوں میں کبھی موت کے ڈر ہوتے نہیں اپنی دستار گرا…
Read MoreTag: عمران اعوان کی تخلیقات
عمران اعوان ۔۔۔ تیرا گر مان بھی نہیں ہوتا
تیرا گر مان بھی نہیں ہوتا اتنا ہیجان بھی نہیں ہوتا چھوڑ دینا کسی کو رستے میں اتنا آسان بھی نہیں ہوتا میں کسی کے بھی چھوڑ جانے پر اب تو حیران بھی نہیں ہوتا اپنی رکتی ہوئی روانی پر دل پریشان بھی نہیں ہوتا ہجر کچھ اس طرح کی ہجرت ہے ساتھ سامان بھی نہیں ہوتا جتنا میں لگ رہا ہوں چہرے سے اتنا انجان بھی نہیں ہوتا قائدے گر نہ توڑتا آدم ایک انسان بھی نہیں ہوتا خوف کے بت نہیں بناتے تو آج بھگوان بھی نہیں ہوتا
Read Moreعمران اعوان
کوئی تو ہوگا جسے دیکھنے گئے ہو گےوگرنہ تم تو محافل سے دور بھاگتے تھے
Read More