حمد باری تعالیٰ ۔۔۔ سرور حسین نقشبندی

پیکرِ جاں میں نور تیرا ہے ہر نفس میں ظہور تیرا ہے پتہ پتہ تری گواہی دے ڈالی ڈالی پہ بور تیرا ہے تو ہر اک جا بھی ہے مگر مسکن ماورائے شعور تیرا ہے گفتگو سے مہک نہ کیوں آئے ذکر ‘بین السطور تیرا ہے لطف‘  عصیاں سرشت بندوں پر پھر بھی ربِ غفور! تیرا ہے تجھ سے کچھ بھی نہیں ہے پوشیدہ سب غیاب و حضور تیرا ہے آنکھ یک دم کھلی ہے پچھلے پہر یہ بُلاوا ضرور تیرا ہے حرف و صوت و ثنائے سرور میں سارا…

Read More

حامد یزدانی ۔۔۔ ایک چہرا بھی نہیں ہے جسے اپنا کہہ لیں

ایک چہرا بھی نہیں ہے جسے اپنا کہہ لیں کوئی ایسا بھی نہیں ہے جسے اپنا کہہ لیں خالقِ وقت! شب و روز کے اس جنگل میں ایک لمحہ بھی نہیں ہے جسے اپنا کہہ لیں دوپہر آئی ہمیں اجنبی چوراہے پر اپنا سایا بھی نہیں ہے جسے اپنا کہہ لیں آسماں آسماں پھیلے ہوئے اس دامن میں اک ستارا بھی نہیں ہے جسے اپنا کہہ لیں منزلوں منزلوں بیگانہ روی ہے ، حامد ایک رستا بھی نہیں ہے جسے اپنا کہہ لیں

Read More

شاہد اشرف ۔۔۔ شک کی بنیاد پہ چشمے کو کنواں جانتا ہے

شک کی بنیاد پہ چشمے کو کنواں جانتا ہے میرے پھیلے ہوئے بازو کو کماں جانتا ہے میں نیا شہر میں آیا ہوں مجھے علم نہیں راستہ پوچھنے والا یہ کہاں جانتا ہے خود کو گرنے سے کئی بارسنبھالا میں نے ایک لغزش کو مگر سارا جہاں جانتا ہے باوجود اس کے کنارے پہ کھڑا ہوں لیکن عکس کے بارے فقط آبِ رواں جانتا ہے بولنے کے لیے الفاظ ضروری نہیں ہیں عام سا شخص بھی جذبوں کی زباں جانتا ہے جمع تفریق سے اندازہ نہیں ہو سکتا میرے بارے…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ اے آنکھ بہت لہو نہ ٹپکا

اے آنکھ بہت لہو نہ ٹپکا جائے گا کہاں یہ جی کا لپکا آئینہ کلام کر رہا ہے اے میرے جنوں! پلک نہ جھپکا جب عشق رگوں میں تیرتا تھا کیا زور تھا حشر سوز تپ کا یوں ہی تو جگر نہ خوں ہوا تھا دل نے دیا راستہ جھڑپ کا یوںہی نہیں کچھ اِدھر اُدھر ہم رشتہ کوئی راست سے ہے چَپ کا سینے میں اُتر گیا تھا بھالا اُس آتشِ جاں تپاں کی تَپ کا کس خواب نے رات آنکھ بھر دی منہ پر دیا تیرے غم نے…

Read More

رومانہ رومی ۔۔۔ کبھی خود پر بھی فاش کر مجھ کو

کبھی خود پر بھی فاش کر مجھ کو اس طرح بھی تلاش کر مجھ کو عزم و ہمت کی اک چٹان ہوں میں پیار سے پاش پاش کر مجھ کو دل کے مندر میں پوجنا مجھ کو بُت بناؤ تراش کر مجھ کو میں تو اک گم شدہ خزانہ ہوں زندگی میں تلاش کر مجھ کو کوئی تصویر بن ہی جائے گی دیکھنا تم تراش کر مجھ کو کہہ رہی ہے ہر ایک شے مجھ سے خود میں بھی تو تلاش کر مجھ کو آؤ ! جینے کا تم ہُنر…

Read More

احمد محسود ۔۔۔ تجھے دکھ ہے جو میری رایگانی کا

تجھے دکھ ہے جو میری رایگانی کا کوئی صورت، کوئی حل بے کرانی کا مجھے خدشہ، مرے بچوں کا کیا ہوگا مجھے دکھ دن بہ دن گرتی جوانی کا کوئی سازش محّلاتی ہے درپردہ کہ مصنوعی ہے یہ بحران پانی کا اسی کے ہاتھ میں ہیں ڈوریاں سب کی کہانی کار سے پوچھو کہانی کا ہمیشہ کال ہی پر بات ہوتی ہے کبھی دیدار بھی ہو یار جانی کا کہاں کا تیر کس کو آ لگے احمد کہاں ، کب خاتمہ ہو زندگانی کا

Read More

عقیدت ۔۔۔ انصر حسن

مرے نبی سا کوئی باکمال ہے ہی نہیں مرے حضور کا برجِ زوال ہے ہی نہیں میں کہہ رہا ہوں کہ ُان سا کہیں نہیں کوئی میں کہہ رہا ہوں کہ ُان کی مثال ہے ہی نہیں جہاں نے آپ سا شیریں بیاں نہیں دیکھا بجا ہے آپ سا شیریں مقال ہے ہی نہیں اسے دکھائیے آیت مباہلہ والی وہ کہہ رہا ہے محمد کی آل ہے ہی نہیں میں ان سے کوئی تعلق نبھا نہیں سکتا جنھیں حضور کے گھر کا خیال ہے ہی نہیں

Read More

حکیم خان حکیم ۔۔۔ پلٹ کے آئے نہیں آسمان سے ہم تو

پلٹ کے آئے نہیں آسمان سے ہم تو گزر گئے ہیں محبت میں جان سے ہم تو ہمارے عشق کی پرواز تھی بلند اتنی گزر گئے ترے وہم و گمان سے ہم تو وہ بے وفائی کا کرتا گلہ کسی سے کیا خرید لائے محبت دکان سے ہم تو! بدن تھا اپنا گزاری ہے زندگی اُس سے گریز پا ہی رہے اس جہان سے ہم تو اسیر ہم کو کیا گلبدن نے آنکھوں میں ہوئے نڈھال جب اپنی اڑان سے ہم تو ہماری ناؤ کو دریا ڈبو نہیں سکتا نکال…

Read More