آسماں کی اُدھر جفا دیکھیں میں زمیں ہوں مری وفا دیکھیں لڑ رہا ہوں بھنّور سے اَب تنہا میری ہمت بھی ناخدا دیکھیں یہ مقّدر ہے عشق والوں کا جور ہر حال میں روا دیکھیں خاک کا اِک حقیر ذرہ ہوں ابتدا میری انتہا دیکھیں بال و پر والے سب ہی اُڑتے ہی ہو کے بے بال و پر اُڑا دیکھیں مٹ گیا ہے وہ راہِ الفت میں کیا ملا ہے اُسے صلہ دیکھیں جس کے چرچے ہیں چارسو جگ میں ہے یہ زندہ یا مَر گیا دیکھیں جو صدا…
Read MoreMonth: 2022 فروری
ہمایوں پرویز شاہد ۔۔۔ عداوتوں سے محبت کشید کرتا ہوں
عداوتوں سے محبت کشید کرتا ہوں میں بے حسوں سے مروت کشید کرتا ہوں جو زہر ہوتا ہے تریاق میرے زخموں کا بدن سے حسبِ ضرورت کشید کرتا ہوں مرے ہنر کی مجھے داد دیجیے صاحب اُداسیوں سے مسرت کشید کرتا ہوں گلہ یہ کرتی ہے مجھ سے نصیب کی دیوی میں خواہشوں سے حقیقت کشید کرتا ہوں زمانے والے جو الفاظ ترک کرتے ہیں میں اُن سے شعر کی لذت کشید کرتا ہوں تمھاری یاد کو تیشہ بنا کے جانِ وفا ہجومِ رنج سے فرصت کشید کرتا ہوں ستم…
Read Moreعقیل رحمانی ۔۔۔ بوجھ جب مفلس و نادار پہ آ جاتے ہیں
بوجھ جب مفلس و نادار پہ آ جاتے ہیں زلزلے شاہوں کے دربار پہ آ جاتے ہیں مرحلے آخری جب پیار پہ آ جاتے ہیں فیصلے باپ کی دستار پہ آ جاتے ہیں نامہ لکھ کر اُسے بھجوانے کی خواہش جو کروں سب کبوتر میری دیوار پہ آ جاتے ہیں تو جو شرماتا ہے اظہارِ محبت سُن کر رنگ سارے تیرے رخسار پہ آ جاتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ ہر شاخ ثمربار ہوئی جب پرندے کبھی اشجار پہ آ جاتے ہیں اپنے شجرے میں تو ظالم کی اطاعت ہی…
Read Moreحمد باری تعالیٰ ۔۔۔ شہاب صفدر
حُسن کی راہگزر اِلااللہ خیر کا زادِ سفر اِلااللہ گوشِ ہستی میں فسوں پھونکتا ہے ہاتفِ شام و سحر اِلااللہ یورشِ وہم و گماں لامعبود پُریقینوں کی سپر اِلااللہ ناخدا خود کو سمجھتا ہے خدا اُٹھ کے کہتے ہیں بھنور اِلااللہ زیست دہراتی ہے حق ہو حق ہو موت دیتی ہے خبر اِلااللہ کچھ نہیں کچھ نہیں جو کچھ ہے یہاں سب شرف سارے ہنر اِلااللہ بے اماں دھوپ کے صحرا میں بھی سایہ زن ایک شجر اِلااللہ ظلم و ظلمت کے مددگار اُدھر ہم نَفسَ ایک اِدھر اِلااللہ سرِ…
Read Moreحفیظ الرحمٰن احسن ۔۔۔ رواں ہے چشمۂ آبِ بقا مدینے میں
رواں ہے چشمۂ آبِ بقا مدینے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دل و نظر کا ٹھکانہ ہوا مدینے میں قرارِ روح جو رکھا گیا مدینے میں ہر ایک ذرّہ چمک اُٹھا خاکِ یثرب کا ہوا طلوع جو مہرِ حرا مدینے میں ملا حرم میں جسے صادق و امیں کا لقب بسا ہے آ کے وہی خوش ادا مدینے میں فضا لطیف ہے مثلِ صفاے آئینہ ہَواے خُلد ہے بادِ صبا مدینے میں صدائیں آج بھی سنتا ہوں خیر مقدم کی وہ آ گئے ہیں حبیبِ ؐ خدا مدینے میں ’’یہ کس بہشت شمائل…
Read Moreرند
کیا مِلا عرضِ مدعا کر کے بات بھی کھوئی التجا کر کے
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ دُکھوں میں ضبط کی زنجیر تو پہن لوں گا
دُکھوں میں ضبط کی زنجیر تو پہن لوں گامیں اپنا سر کسی دہلیز پر نہ رکھوںگا میں تیرے قرب کے تسکین بخش پہلو میںیہ ایک رات تو کیا ساری عمر جاگوں گا میں اپنا دُکھ نہ سناؤں گا شہر والوں کوترے وقار کی اے دوست لاج رکھوں گا وہ ایک شخص بھی اخلاص سے تہی نکلاوفا کی سرد ترازو میں کس کو تولوں گا شکستِ شیشۂ دل سے تو موت بہتر ہےکوئی بتائے کہ کب تک یہ زہر چاٹوں گا میں ایک شعلۂ احساس ہوں‘ اے شہر سکوت!دماغ و دل…
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ گزرا بنائے چرخ سے نالہ پگاہ کا
گزرا بنائے چرخ سے نالہ پگاہ کاخانہ خراب ہوجیو اس دل کی چاہ کا آنکھوں میں جی مرا ہے ادھر دیکھتا نہیںمرتا ہوں میں تو ہائے رے صرفہ نگاہ کا اک قطرہ خون ہو کے پلک سے ٹپک پڑاقصّہ یہ کچھ ہوا دلِ غفراں پناہ کا تلوار مارنا تو تمہیں کھیل ہے ولےجاتا رہے نہ جان کسو بے گناہ کا ظالم زمیں سے لوٹتا دامن اُٹھا کے چلہوگا کمیں میں ہاتھ کسو داد خواہ کا اے تاجِ شہ نہ سر کو فرو لاؤں تیرے پاسہے معتقد فقیر نمد کی کلاہ…
Read Moreمعین ناصر ۔۔۔ زندگی بھر خزاؤں میں رہنا
زندگی بھر خزاؤں میں رہناکس لیے بے وفاؤں میں رہنا جا رہا ہوں ترے نگر سے، مجھےاب نہیں ان خداؤں میں رہنا مار ڈالے گی غم کی ارزانیکم کرو انتہاؤں میں رہنا یہ غزل آخری سمجھ کے سنواور سیکھو بلاؤں میں رہنا اچھا لگتا ہے، ہر گھڑی ناصر یوں کسی کی دعاؤں میں رہنا
Read Moreمظہر حسین سیّد ۔۔۔ تجھ کو پانے کی ٹھان لی میں نے
تجھ کو پانے کی ٹھان لی میں نے کتنی اُونچی اُڑان لی میں نے جینا دشوار ہو گیا تھا مرا چند خوابوں کی جان لی میں نے اب کوئی اور کام کرنا ہے خاک جتنی تھی چھان لی میں نے اک تعلق کو جیتنے کے لیے دفعتاََ ہار مان لی میں نے گاہکوں کی رسائی مشکل ہے اتنی اُونچی دکان لی میں نے ایک بستر بچھایا مٹی کا ایک چادر بھی تان لی میں نے تجھ کو آسانیاں تو دیں لیکن دیکھ کتنی تھکان لی میں نے جاں ہتھیلی پہ…
Read More