نسیمِ سحر ۔۔۔ عیاں سے آنکھ ہٹا کر نہاں کو دیکھ لیا

(نذرِ جناب خورشید رضوی) عیاں سے آنکھ ہٹا کر نہاں کو دیکھ لیا تو ایک ذرّے میں ہم نے جہاں کو دیکھ لیا کسی نے جب مِرے قلبِ تپاں کو دیکھ لیا گماں کرے گا کہ آتش فشاں کو دیکھ لیا نہیں ہے شوق ہمیں جا کے اُس کو چھُونے کا ہمیں یہی ہے بہت ، آسماں کو دیکھ لیا! درونِ ذات جونہی اِک نگاہ کی ہم نے ’’وجودِ سنگِ رہِ درمیاں کو دیکھ لیا‘‘ ظفر(۱) کو دیکھ کے ایسا لگا کہ بارِ دِگر جنابِ میرؔ سے جادو بیاں کو…

Read More

ناصر علی سید ۔۔۔ دنیا وا لے تو فقط نام و نسب جانتے ہیں

دنیا وا لے تو فقط نام و نسب جانتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت سی دل دکھانے والی ساعتوں سے بوجھل بوجھل دوہزاربیس2020 کے کٹھور سال کا کیلنڈر آج شام کے بعد دیواروں سے ہٹ جائے گا۔ ہر چند اب کیلنڈر کی روایت بھی ہمارے ہاتھ لگی ہوئی ایک چھوٹی سی ڈیوائس (جوموبائیل یا سیل فون کہلاتی ہے)نے کم و بیش ختم کردی ہے، جب چاہے کسی بھی سال کی کوئی تاریخ دیکھ لیں جب چاہیں آنے والی کوئی بھی اہم تاریخ محفوظ کر لیں اور یہ ڈیوائس آپ کو یاد دلا…

Read More

معین ناصر ۔۔۔ وہ سراپا رہا سہا اُس کا

وہ سراپا رہا سہا اُس کا منتظر ہو گا آئنہ اُس کا عشق اُس نے کبھی کیا ہو گا رکھ رکھاؤ بتا گیا اُس کا اُس کا ملنا محال تھا، یہ تو خوشبوؤں نے دیا پتہ اُس کا وہ کہانی عجب کہانی تھی تن بدن سٹپٹا گیا اُس کا اور پھر سوچنے لگا ناصر کون در کھٹکھٹا گیا اُس کا

Read More

افضل گوہر ۔۔۔ اب کیا تمہیں بتائیں کہ کب خاک ہو گئے

اب کیا تمہیں بتائیں کہ کب خاک ہو گئے تب پوچھنے کو آئے ہو جب خاک ہو گئے اک گرد تھی کہ پڑ گئی اُجلے لباس پر پھر یوں ہوا کہ نام ونسب خاک ہو گئے مرتے ہوؤں نے سانس لئے اپنے آخری اور اْس کے بعد نام ونسب خاک ہو گئے کل تک میں دیکھتا تھا یہاں کیسے کیسے لوگ اک ایک کرکے آخرش سب خاک ہو گئے اْن کے بدن پہ کون سی مٹی کے رنگ تھے مرنے سے جن کے عارض و لب خاک ہو گئے

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ بکھرنے سے ذرا پہلے

بکھرنے سے ذرا پہلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی آنکھیں سلامت ہیں ابھی ان آئنوں میں روشنی کا عکس بنتا ہے سمندر، آسماں، پتے، دریچے، بیل بوٹے پھول، گھر، جنگل، ستارے بستیوں کے کھوج میں نکلے مسافر (کہ جتنے بھی ہیں سارے روشنی کے استعارے ہیں) ابھی موجود ہیں اور اک عجب آسودگی کی لَو سے روشن ہیں ابھی وہ آگ جلتی ہے جو اندھے آئنوں میں عکس کی تعمیر کرتی ہے ابھی مَیں دیکھ سکتا ہوں لہو کی نرم رَو سے پھوٹتے موسم کی مٹھی میں وہ آنکھیں، جن کے دم سے…

Read More