(نذرِ جناب خورشید رضوی) عیاں سے آنکھ ہٹا کر نہاں کو دیکھ لیا تو ایک ذرّے میں ہم نے جہاں کو دیکھ لیا کسی نے جب مِرے قلبِ تپاں کو دیکھ لیا گماں کرے گا کہ آتش فشاں کو دیکھ لیا نہیں ہے شوق ہمیں جا کے اُس کو چھُونے کا ہمیں یہی ہے بہت ، آسماں کو دیکھ لیا! درونِ ذات جونہی اِک نگاہ کی ہم نے ’’وجودِ سنگِ رہِ درمیاں کو دیکھ لیا‘‘ ظفر(۱) کو دیکھ کے ایسا لگا کہ بارِ دِگر جنابِ میرؔ سے جادو بیاں کو…
Read MoreMonth: 2022 فروری
سعید الظفر صدیقی
تمھارا شہر تو اب شہر ہے فرشتوں کا ہمارے پاس ہیں کچھ آدمی، کہاں لے جائیں
Read Moreسید محمد مجیب الحسن نوابی عزیزی
کھول کر دیکھ لے کتاب اپنی ہر ورق پر ہیں حاشیے میرے
Read Moreرانا خالد محمود قیصر
رہِ محبت میں خار سے بھی نبھانے والا نبھا رہا ہے
Read Moreناصر علی سید ۔۔۔ دنیا وا لے تو فقط نام و نسب جانتے ہیں
دنیا وا لے تو فقط نام و نسب جانتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت سی دل دکھانے والی ساعتوں سے بوجھل بوجھل دوہزاربیس2020 کے کٹھور سال کا کیلنڈر آج شام کے بعد دیواروں سے ہٹ جائے گا۔ ہر چند اب کیلنڈر کی روایت بھی ہمارے ہاتھ لگی ہوئی ایک چھوٹی سی ڈیوائس (جوموبائیل یا سیل فون کہلاتی ہے)نے کم و بیش ختم کردی ہے، جب چاہے کسی بھی سال کی کوئی تاریخ دیکھ لیں جب چاہیں آنے والی کوئی بھی اہم تاریخ محفوظ کر لیں اور یہ ڈیوائس آپ کو یاد دلا…
Read Moreمعین ناصر ۔۔۔ وہ سراپا رہا سہا اُس کا
وہ سراپا رہا سہا اُس کا منتظر ہو گا آئنہ اُس کا عشق اُس نے کبھی کیا ہو گا رکھ رکھاؤ بتا گیا اُس کا اُس کا ملنا محال تھا، یہ تو خوشبوؤں نے دیا پتہ اُس کا وہ کہانی عجب کہانی تھی تن بدن سٹپٹا گیا اُس کا اور پھر سوچنے لگا ناصر کون در کھٹکھٹا گیا اُس کا
Read Moreامام بخش ناسخ
ششدر سا رہ گیا ہوں درِ یار دیکھ کردیوار بن گیا ہوں مَیں دیوار دیکھ کر
Read Moreمومن خاں مومن
معشوق سے بھی ہم نے نبھائی برابری واں لطف کم ہُوا تو یہاں پیار کم ہُوا
Read Moreافضل گوہر ۔۔۔ اب کیا تمہیں بتائیں کہ کب خاک ہو گئے
اب کیا تمہیں بتائیں کہ کب خاک ہو گئے تب پوچھنے کو آئے ہو جب خاک ہو گئے اک گرد تھی کہ پڑ گئی اُجلے لباس پر پھر یوں ہوا کہ نام ونسب خاک ہو گئے مرتے ہوؤں نے سانس لئے اپنے آخری اور اْس کے بعد نام ونسب خاک ہو گئے کل تک میں دیکھتا تھا یہاں کیسے کیسے لوگ اک ایک کرکے آخرش سب خاک ہو گئے اْن کے بدن پہ کون سی مٹی کے رنگ تھے مرنے سے جن کے عارض و لب خاک ہو گئے
Read Moreغلام حسین ساجد ۔۔۔ بکھرنے سے ذرا پہلے
بکھرنے سے ذرا پہلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی آنکھیں سلامت ہیں ابھی ان آئنوں میں روشنی کا عکس بنتا ہے سمندر، آسماں، پتے، دریچے، بیل بوٹے پھول، گھر، جنگل، ستارے بستیوں کے کھوج میں نکلے مسافر (کہ جتنے بھی ہیں سارے روشنی کے استعارے ہیں) ابھی موجود ہیں اور اک عجب آسودگی کی لَو سے روشن ہیں ابھی وہ آگ جلتی ہے جو اندھے آئنوں میں عکس کی تعمیر کرتی ہے ابھی مَیں دیکھ سکتا ہوں لہو کی نرم رَو سے پھوٹتے موسم کی مٹھی میں وہ آنکھیں، جن کے دم سے…
Read More