اپنی تقدیر پہ رونا آیا جب کوئی ہنس کے ملا ہے مجھ سے
Read MoreMonth: 2022 جون
رضا ہمدانی
آلام سے ہی بنتے ہیں رضا خوشیوں کے تانے بانے بھی
Read Moreطفیل احمد جمالی
اب ہم ہیں اور فکرِ گریبانِ چاکِ گل آئے تھے قصدِ سیرِ گلستاں کیے ہوئے
Read Moreالطاف مشہدی
جب بھی الطاف کو تلاش کیا مے کدے میں ضرور ملتا ہے
Read Moreفراق گورکھپوری
سو درد اک تبسمِ پنہاں میں بند ہیں تصویر ہوں فراق حیات و ممات کی
Read Moreساغر نظامی
پھولوں کا تو کیا ذکر جو یہ موسمِ گل ہے کانٹوں کو بھی احساسِ خزاں ہونے نہ پائے
Read Moreمسعود انور شفقی
کیا کریں ہم کہ جس طرف جائیں تیرے نقشِ قدم ہی ملتے ہیں ماہ نامہ ارژنگ، پشاور (نومبر دسمبر ۱۹۶۴) جلد: ۱، شمارہ: ۴ ۔ ۵ مدیر تاج سعید
Read Moreسعید الزماں عباسی
تم کیا اسیرِ رسم و روایات ہو گئے دنیا رہینِ گردشِ حالات ہو گئی ماہ نامہ ارژنگ، پشاور (نومبر دسمبر ۱۹۶۴) جلد: ۱، شمارہ: ۴ ۔ ۵ مدیر تاج سعید
Read Moreقاضی زبیر بیخود
لڑیں ساقی سے نظریں ، دور میں جامِ شراب آیا سنبھل اے گردشِ ایام اب تیرا جواب آیا ماہ نامہ ارژنگ، پشاور (نومبر دسمبر ۱۹۶۴) جلد: ۱، شمارہ: ۴ ۔ ۵ مدیر تاج سعید
Read Moreشاہین بدر
جلتا ہے چمن آتشِ لالہ کے شرر سے کچھ دیر تو گھنگور گھٹا ٹوٹ کے برسے ماہ نامہ ارژنگ، پشاور (نومبر دسمبر ۱۹۶۴) جلد: ۱، شمارہ: ۴ ۔ ۵ مدیر تاج سعید
Read More