بصد رشک قابل کی آوارگی کو غزالانِ دیر و حرم دیکھتے ہیں
Read MoreMonth: 2022 جولائی
حمد باری تعالیٰ ۔۔۔ صفدر صدیق رضی
حمد لکھوں گا میں ہر صنفِ سخن سے پہلے یوں تِرا نام زباں پر ہے دَہن سے پہلے تجھ کو رکھا گیا جب کچھ بھی نہ رکھا تھا کہیں دل بنایا گیا سینے میں بدن سے پہلے جتنا بہتر ہوں میں اب تک تری توفیق سے ہوں میں گنہگار تھا اس چال چلن سے پہلے اس بلا وجہہ تکلف کی ضرورت کیا تھی میں ترے ساتھ ہی تھا دارورسن سے پہلے سجدہ کرتا ہوں تو احساسِ ندامت کے ساتھ درد ہوتاہے مرے دل میں چبھن سے پہلے یا الٰہی مجھے…
Read Moreسعدیہ بشیر ۔۔۔۔ الجھن
الجھن ۔۔۔۔۔۔۔۔ الجھ سی گئی ہوں نیا سال ہے تو پرانے کا کیا ہو !!!! مرے پاس ایسے بہت سال ہیں۔۔۔، کہاں پر سجاؤ ں ؟ کسی شیلف پر یہ سماتے نہیں۔۔۔ ، نہ یہ ٹوٹ جائیں یہ گٹھڑی میں بھی باندھے جاتے نہیں ، مرتب رہیں ۔۔۔ یہ ملبوس ہیں کیا ؟ کہ دے دوں کسی کو جو مجھ پر ہے گزرا ، وہ میرا رہے گا سمجھ سے ہے باہر کہاں رکھ کے آؤں ؟ جہاں پر گذشتہ کئی سال رکھے وہ بجھنے لگے ہیں انھیں سانس لینے…
Read Moreحمد باری تعالیٰ ۔۔۔ اشرف کمال
سر چھپانے کے لیے دھوپ میں گھر دیتا ہے وہ خدا ہے جو اندھیروں کو سحر دیتا ہے میرے بگڑے ہوئے حالات سنوارے گا ضرور وہ جو سوکھے ہوئے پیڑوں کو ثمر دیتا ہے میرا سرمایہ بنے حمد وثنا کے آداب میرا خالق مجھے لفظوں کا ہنر دیتا ہے کس محبت سے وہ سنتا ہے دعائیں سب کی ٹوٹے پھوٹے ہوئے لفظوں میں اثر دیتا ہے جستجو تیری کہاں بیٹھنے دیتی ہے مجھے تو مجھے روز نیا اذنِ سفر دیتا ہے حوصلہ مند کو مایوس نہیں کرتا کبھی وہ گزرنے…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ آہ کیا دل کے دھڑکنے کی جو آواز نہ ہو
آہ کیا دل کے دھڑکنے کی جو آواز نہ ہو نغمہ ہو جاتا ہے بے کیف اگر ساز نہ ہو میں نے منزل کے لیے راہ بدل دی ورنہ روک لے دیر جو کعبہ خلل انداز نہ ہو مرتے مرتے بھی کہا کچھ نہ مریض غم نے پاس یہ تھا کہ مسیحا کا عیاں راز نہ ہو ساقیا جام ہے ٹوٹے گا صدا آئے گی یہ مرا دل تو نہیں ہے کہ جو آواز نہ ہو اے دعائے دلِ مجبور وہاں جا تو سہی لوٹ آنا درِ مقبول اگر باز…
Read Moreدوارکا داس شعلہ … میری منزل کہاں ہے کیا معلوم
میری منزل کہاں ہے کیا معلوم انتہا غم ہے ابتدا معلوم تم نہیں میرے اب یہ راز کھلا میں تمہارا ہوں اب ہوا معلوم دل کی پروا کرے کوئی کب تک چاہتا کیا ہے یہ خدا معلوم دور سے گل کو دیکھنا کیا ہے یوں تو ہوتا ہے خوش نما معلوم پاس آئے تو اصل حسن کھلے دور کی چیز راز نا معلوم تم کو چاہا بڑا قصور کیا سہو ظاہر ہے اور خطا معلوم بات بنتی نظر نہیں آتی ان کے تیور سے ہو گیا معلوم وضع داری سے…
Read Moreما بعد جدیدیت ( اردو کے تناظر میں) ۔۔۔ گوپی چند نارنگ
اردو میں مابعد جدیدیت کی بحثوں کو شروع ہوئے کئی برس ہو چکے ہیں۔ اہل علم جانتے ہیں کہ جدیدیت اپنا تاریخی کردار ادا کر کے بے اثر ہو چکی ہے اور جن مقدمات پر وہ قائم تھی وہ چیلنج ہو چکے ہیں۔ وہ ادیب جو حساس ہیں اور ادبی معاملات کی آگہی رکھتے ہیں، ان کو اس بات کا احساس ہے کہ مابعد جدیدیت کا نیا چیلنج کیا ہے اور اردو کے تناظر میں مابعد جدیدیت کے اثرات کے تحت پیدا ہونے والے نئے سوالات کیا ہیں۔ اس بارے…
Read Moreشیر افضل جعفری
ارم کے پھول، ازل کا نکھار، طور کی لو سخی چناب کی وادی میں آ کے جھنگ ہوئے
Read Moreانشااللہ خان انشا ۔۔۔ اچھا جو خفا ہم سے ہو تم، اے صنم اچھا
اچھا جو خفا ہم سے ہو تم، اے صنم اچھا لو ہم بھی نہ بولیں گے خدا کی قسم اچھا مشغول کِیا چاہیے اِس دل کو کسی طور لے لیویں گے ڈھونڈ اور کوئی یار ہم اچھا گرمی نے کچھ آگ اور بھی سینہ میں لگائی ہر طور غرض آپ سے ملنا ہے کم اچھا اغیار سے کرتے ہو مرے سامنے باتیں مجھ پر یہ لگے کرنے نیا تم ستم اچھا ہم معتکفِ خلوتِ بت خانہ ہیں اے شیخ جاتا ہے تو جا تُو پئے طوفِ…
Read Moreنظیر اکبر آبادی
لُٹے ہم اس کی گلی میں تو یوں پکارے لوگ کہ اک فقیر کو اک بادشہ نے لوٹ لیا
Read More