خالد علیم ۔۔۔ تپیدہ سینے میں داغِ سراغِ ہم نفساں ہے

تپیدہ سینے میں داغِ سراغِ ہم نفساں ہے کِھلا ہوا کوئی باغِ سراغِ ہم نفساں ہے یہ کوئی اشک نہیں ہے جسے ستارہ کریں ہم درِ نگہ پہ چراغِ سراغِ ہم نفساں ہے سو ایک جرعۂ کم ہے ہم ایسے تشنہ لبوں کو محیطِ خُم بھی ایاغِ سراغِ ہم نفساں ہے سو چاہیے کہ ٹھٹھرتی ہوئی فضاؤں سے نکلے اگر کسی کو فراغِ سراغِ ہم نفساں ہے عجب نہیں کہ کہیں سرکشیدہ خاک سے پھوٹے سفر گزیدہ جو راغِ سراغِ ہم نفساں ہے عجب نہیں کہ کسی کاہِ زرد رنگ…

Read More

بہ نوکِ خار می رقصم ۔۔۔ سلمیٰ یاسمین نجمی

بہ نوکِ خار می رقصم (۱) وہ چاروں ڈیلٹا ایر لائن کے ذریعے چند منٹ پہلے اور لینڈ و پہنچی تھیں۔نیلے کانچ کی طرح صاف شفاف آسمان تاحدِّ نظر پھیلا ہوا تھا۔اس میں بادلوں کے سپید پھولے ہوئے گالوں جیسے بادلوں کا انبار لگا ہوا تھا۔ ’’کیوں شمو کتنا خوبصورت آسمان ہے بالکل ہمارے وطن جیسا…‘‘ ’’گرمی بھی ویسی ہے،دم نکلا جا رہا ہے۔‘‘شمو نے اپنی منی سی ناک چڑھائی۔’’مجھے لگتا ہے ساری تفریح نکل جائے گی ،ہمیں اس موسم میں نہیں آنا چاہئے تھا۔‘‘ ’’جب چھٹیاں ہوتی ہں تب…

Read More

ڈاکٹر خورشید رضوی ۔۔۔ منیر نیازی کی یاد میں

منیر نیازی کی یاد میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُمید کسی کے آنے کی یا دُور سے بات سنانے کی اَن دیکھی چھب دکھلانے کی ہر بات میں دیر لگانے کی اب ٹوٹ گئی وہ نین نشیلے بند ہوئے وہ صورت ہم سے روٹھ گئی افسردہ سرد اندھیرے میں یہ ایک کرن بھی بجھ گئی ہے اک دُور کے طاق پہ جلتی ہوئی اک شمع انوکھی بجھ گئی ہے

Read More

ڈاکٹر یونس خیال ۔۔۔ خوف

خوف ۔۔۔۔۔ شہر کی دیوار پر لکھے گئے پھر نئی ترتیب سے کالے حروف اس سے پہلے بھی نہ جانے اس طرح کی کالی تحریروں کو پڑھ کر کتنے انسانوں سے بینائی چِھنی ہے اب بھی ایسے ہی کئی خدشوں کی چیخیں مرے اندر سنائی دے رہی ہیں

Read More

ڈاکٹر یونس خیال ۔۔۔ لمحے کی رفاقت

لمحے کی رفاقت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ لمحہ کتنا عظیم تر تھا کہ جس کو پانے کی آرزو میں نہ جانے کتنی طویل صدیاں مری وفا کے چراغ  لے کر اُداس رستوں پہ منتظر تھیں وہ لمحہ کتنا عظیم تر تھا حسین تر تھا کہ جب ترا نام سب سے پہلے مری زباں سے ادا ہوا تھا

Read More

احمد حسین مجاہد ۔۔۔ میں

مَیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ برس دو برس تک مرا نام ایلان کردی رہا ہے مگر اب مرے سینکڑوں نام ہیں میں فلسطین کا مصطفیٰ ہوں پشاور کا گُل شیر ہوں میں نے بڈگام میں جان دی تھی مری قبر بغداد میں ہے کہیں میں روہنگیا کہیں میں ہزارہ کہیں پنڈتوں میں گھرا محض اک آدمی ہوں پشاور کے اسکول میں جو عبارت مرے خوں سے لکھی گئی اس کے معنی کسی پر نہیں کھل سکے مجھ پہ کابل کی مسجد میں اس وقت حملہ ہوا جب میں سجدے میں تھا شام کی…

Read More

نوید صادق ۔۔۔ غیر مکمل نظمیں

غیر مکمل نظمیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دفتر کے ہنگامے بھی کچھ کم تو نہیں ہیں لیکن گھرکا سناٹا تو جاں لیوا تھا اند ر باہر ہونکتے سائے تنہائی کے مارے گھر کی دیواروں میں دفن خرابے بولتے ہیں خوابوں کی جو قیمت آپ چکا بیٹھے ہیں راشد صاحب! آپ اداکاری میں کتنے یکتا تھے لیکن سالامانکاشاید۔۔۔! آپ سے تھوڑا آگے تھی بات بہت لمبی ہے لیکن میں اس دفتر میں نوکر ہوں میری ذمہ داریاں ۔۔۔۔۔ میری ساری نظمیں ۔۔۔۔ اب تک غیر مکمل ہیں

Read More

نوید صادق ۔۔۔ سونا چاہتا ہوں

سونا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیا بات ہوئی تم مجھ سے دور چلے جاؤ گے پہلے کم اُلجھیڑے ہیں جو چاروں اور دھمالیں ڈالتے پھرتے ہیں پہلے پہل مَیں سوچتا تھا اِس دنیا میں میں ہوں، میرے بعد بھی میں ہوں لیکن ! وقت کے اپنے چکر ہیں چکرا دیتے ہیں آدمی نام اور کام کے چکر کو رہ جاتا ہے صرف کہانی چلتی ہے اچھا !تم بھی خوب سمجھتے ہو اِن جھگڑوں کو دریاؤں کا پانی شہر میں داخلہ چاہتا ہے خاموش! ہمارے آنگن میں اِک چڑیا پر پھیلائے…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ اُس نے جو ہشیار تھا ، دیکھا چھین لیا

اُس نے جو ہشیار تھا ، دیکھا چھین لیا ہاتھ میں بچّے کے تھا کھلونا چھین لیا سادہ لوح نے جو کچھ سینت کے رکھا تھا مکر نے اپنا ہاتھ دکھایا چھین لیا باپ سا دست نگر اُس کو بھی بنانے کو بنیے نے طفلک سے بستہ چھین لیا یہ بھی ہُنر ہے جو حاصل ہے جابر کو شاہیں نے چڑیا سے جینا چھین لیا عزّت داروں سے ماجدِ زور آور نے جتنا زعم اُنہیں تھا سارا چھین لیا

Read More

توقیر عباس ۔۔۔ دور پیڑوں کے سائے میں

دور پیڑوں کے سائے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دور پیڑوں کے سائے میں حرکت، مسلسل مرا دھیان اس کی طرف اوردل میں کئی واہمے دل کی دھڑکن میں دھڑکیں کئی گردشیں اور میں ہشت پائے کے پنجے میں جکڑا گیا عجب خوف پیڑوں کے سائے میں پلتا ہوا اک تحرک جو کھلتا نہیں اور میں منتظر جو بھی ہونا ہے اب ہو اور اب ایک آہٹ نے دہلادیا بہت دھیمی آہٹ اجل نے چھوا ہو کہ دنیا اندھیرے میں ڈوبی کہیں دور خوشبو میں مہکا سویرا تحرک کی ہچکی سنی اور ہر…

Read More