محمد علوی ۔۔۔ کتنا حسین تھا تو کبھی کچھ خیال کر

کتنا حسین تھا تو کبھی کچھ خیال کر اب اور اپنے آپ کو مت پائمال کر مرنے کے ڈر سے اور کہاں تک جیے گا تو جینے کے دن تمام ہوئے، انتقال کر اک یاد رہ گئی ہے مگر وہ بھی کم نہیں اک درد رہ گیا ہے سو رکھنا سنبھال کر دیکھا تو سب کے سر پہ گناہوں کا بوجھ تھا خوش تھے تمام نیکیاں دریا میں ڈال کر خواجہ کے در سے کوئی بھی خالی نہیں گیا آیا ہے اتنے دور تو علوی سوال کر

Read More

صوفی تبسم ۔۔۔ ہر ذرہ اُبھر کے کہہ رہا ہے

ہر ذرہ اُبھر کے کہہ رہا ہے آ دیکھ، ادھر یہاں خدا ہے اِس چرخ کو پیس ڈالتا میں افسوس کہ یار بے وفا ہے مرتا تری کج ادائیوں پر لیکن وہ خمار اُتر گیا ہے میں مہر و وفا کی انتہا ہوں تو جور و جفا کی انتہا ہے عشاق کی روح کانپتی ہے جب آئنہ کوئی دیکھتا ہے یہ کفر نوازیٔ تبسم کافر کسی بت پہ مبتلا ہے

Read More