شبِ وصال وہ کس ناز سے یہ کہتے ہیں ہمارے ہجر میں سچ مچ تجھے قرار نہ تھا
Read MoreDay: مئی 17، 2024
صوفی تبسم
ابھی ہوس کو میسر نہیں دلوں کا گداز ابھی یہ لوگ مقام نظر سے گزرے ہیں
Read Moreصوفی تبسم
ترے چھپنے سے چھپیں گی نہ ہماری یادیں تو جہاں ہوگا وہیں ذکر ہمارا ہوگا
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ کتنا حسین تھا تو کبھی کچھ خیال کر
کتنا حسین تھا تو کبھی کچھ خیال کر اب اور اپنے آپ کو مت پائمال کر مرنے کے ڈر سے اور کہاں تک جیے گا تو جینے کے دن تمام ہوئے، انتقال کر اک یاد رہ گئی ہے مگر وہ بھی کم نہیں اک درد رہ گیا ہے سو رکھنا سنبھال کر دیکھا تو سب کے سر پہ گناہوں کا بوجھ تھا خوش تھے تمام نیکیاں دریا میں ڈال کر خواجہ کے در سے کوئی بھی خالی نہیں گیا آیا ہے اتنے دور تو علوی سوال کر
Read Moreآفتاب لکھنوی
کافر تھا میں ضرور مگر ان کے عشق میں منٹوں میں کیا سے کیا مرا ایمان ہو گیا ان کی نظر سے میری نظر دس بجے لڑی دس بج کے دس منٹ پہ مسلمان ہو گیا
Read Moreصوفی تبسم ۔۔۔ ہر ذرہ اُبھر کے کہہ رہا ہے
ہر ذرہ اُبھر کے کہہ رہا ہے آ دیکھ، ادھر یہاں خدا ہے اِس چرخ کو پیس ڈالتا میں افسوس کہ یار بے وفا ہے مرتا تری کج ادائیوں پر لیکن وہ خمار اُتر گیا ہے میں مہر و وفا کی انتہا ہوں تو جور و جفا کی انتہا ہے عشاق کی روح کانپتی ہے جب آئنہ کوئی دیکھتا ہے یہ کفر نوازیٔ تبسم کافر کسی بت پہ مبتلا ہے
Read More