ماجد صدیقی ۔۔۔ ذِی نفس جو بھی ہے اُس کو جان کا کھٹکا لگا

ذِی نفس جو بھی ہے اُس کو جان کا کھٹکا لگا بھیڑیوں کی دھاڑ سے ہے دشت بھر دِبکا لگا اِس طرح کرنے سے اُٹّھے گی عمارت اور بھی سرفرازی چاہیے تو اور بھی پیسا لگا جان لے اخلاق سے ہٹ کر بھی کچھ آداب ہیں مختصر یہ ہے کہ جتنا ہو سکے مسکا لگا نرخ اِس یوسف کے اَنٹی سے بھی ارزاں ہو گئے آدمی ہی جس طرف دیکھا ہمیں سستا لگا لُو چلی تو، وہ کہ منکر تندیِ موسم کے تھے چیخنا اُن کا ہم اہلِ دل کو…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ باز آگیا شاید اب فلک ستانے سے

باز آگیا شاید اب فلک ستانے سے بجلیاں نکلتی ہیں بچ کے آشیانے سے خاک لے گئی بجلی میرے آشیانے سے صرف چار چھ تنکے وہ بھی کچھ پرانے سے کچھ نظر نہیں آتا ان کے منہ چھپانے سے ہر طرف اندھیرا ہے چاند ڈوب جانے سے حالِ باغ اے گلچیں فائدہ چھپانے سے ہم تو ہاتھ دھو بیٹھے اپنے آشیانے سے باغ ہو کہ صحرا ہو جی کہیں نہیں لگتا آپ سے ملے کیا ہم چھٹ گئے زمانے سے صبح سے یہ وقت آیا وہ ہیں بزمِ دشمن ہے…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ بلا سے ہو شام کی سیا ہی کہیں تو منزل مری ملے گی

بلا سے ہو شام کی سیا ہی کہیں تو منزل مری ملے گی ادھر اندھیرے میں چل پڑوں گا جدھر مجھے روشنی ملے گی ہجومِ محشر میں کیسا ملنا نظر فریبی بڑی ملے گی کسی سے صورت تری ملے گی کسی سے صورت مری ملے گی تمھاری فرقت میں تنگ آ کر یہ مرنے والوں کا فیصلہ ہے قضا سے جو ہم کنار ہو گا اسے نئی زندگی ملے گی قفس سے جب چھٹ کے جائیں گے ہم تو سب ملیں گے بجز نشیمن چمن کا ایک ایک گل ملے…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ عمر بھر خاک ہی کیا چھانتے ویرانوں کی

عمر بھر خاک ہی کیا چھانتے ویرانوں کی بات تھی آئی گئی ہو گئی دیوانوں کی کون کہہ دے گا کہ باتیں ہیں یہ دیوانوں کی دھجیاں جیب میں رکھی ہیں گریبانوں کی جا چکے چھوڑ کر آزادیاں ویرانوں کی اب تو بستی میں خبر جائے گی دیوانوں کی یادگاریں نہیں کچھ اور تو دیوانوں کی دھجیاں ملتی ہیں صحرا میں گریبانوں کی خیر محفل میں نہیں حسن کے دیوانوں کی شمع کے بھیس میں موت آئی ہے پروانوں کی تو بھی کب توڑنے کو پھول چلا ہے گلچیں آنکھ…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ تیرے طعنے سنے سہے غم بھی

تیرے طعنے سنے سہے غم بھی ہم نے مارا نہ آج تک دم بھی میری میت تو کیا اٹھاؤ گے تم نہ ہو گے شریکِ ماتم بھی باغباں برق کیا گلوں پہ گری تیرے گلشن میں لٹ گئے ہم بھی جلتے رہتے ہیں تری محفل میں یہ پتنگے بھی، شمع بھی، ہم بھی کاروانِ رہِ عدم والو! ٹھہرو کپڑے بدل چکے ہم بھی

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ صبر آگیا یہ کہہ کر دل سے غمِ وطن میں

صبر آگیا یہ کہہ کر دل سے غمِ وطن میں سب پھول ہی نہیں کانٹے بھی تھے چمن میں بلبل ہے گلستاں میں پروانہ انجمن میں سب اپنے اپنے گھر ہیں اک ہم نہیں وطن میں صیاد باغباں کی ہم سے کبھی نہ کھٹکی جیسے رہے قفس میں ویسے رہے چمن میں دامانِ آسماں کو تاروں سے کیا تعلق ٹانکے لگے ہوئے ہیں بوسیدہ پیرہن میں سنتے ہیں اب وہاں بھی چھائی ہوئی ہے ظلمت ہم تو چراغ جلتے چھوڑ آئے تھے وطن میں کچھ اتنے مختلف ہیں احباب جب…

Read More

ڈاکٹر شاہد اشرف ۔۔۔ اجنبی چلتا ہوا آنکھوں سے اوجھل ہو گیا

اجنبی چلتا ہوا آنکھوں سے اوجھل ہو گیا صرف مُڑ کر دیکھنے سے مسئلہ حل ہو گیا دیر تک دریا سے پیاسا گفتگو کرتا رہا اور اسی دوران میں پانی تو بادل ہو گیا ذات سے کردار ہم آہنگ کرنے کے لیے ناچتے گاتے ہوئے فنکار پاگل ہو گیا جب سفر میں گر پڑا تو پھر یقیں آیا اُسے میں اُسے کہتا رہا میرا بدن شل ہو گیا سخت کوشش سے خزانے تک رسائی ہو گئی اور پھر دروازہ باہر سے مقفّل ہو گیا وقت نے مٹّی سے سونا کر…

Read More