ہزار گردشِ ایام کا نشانہ ہوں کنویں میں قید سہی یوسفِ زمانہ ہوں
Read MoreMonth: 2024 جون
سعید شارق ۔۔۔ پونچھے نہ تھےجو مَیں نے کبھی اُس کے گال سے
پونچھے نہ تھےجو مَیں نے کبھی اُس کے گال سے وہ اشک رِستے رہتے ہیں اب میری شال سے آندھی کی طرح نیند کی موج آئی میری سمت ایک ایک کر کے خواب جھڑے ڈال ڈال سے بُھولے سے مِلنے والی خوشی چِیر دے نہ دل! مچھلی نکل نہ جائے کہیں خستہ جال سے! اک روز ہاتھ لگ گئے یادوں بھرے جہاز کیسا خزانہ مل گیا بحرِ ملال سے! کیوں آ گیا ہے پھر تجھے پیچھے دھکیل کر لڑتا رہا مَیں آج بھی کس کس خیال…
Read Moreشہزاد عادل
پرانے دوست کہیں بیٹھتے ہیں جب مل کر حدیثِ دل کا بیاں ساری رات چلتا ہے تمہارے شہر کی مسجد نہیں کہ بند ملے یہ میکدہ ہے میاں ساری رات چلتا ہے
Read Moreعزیز فیصل
سوچتا ہوں کہ ساٹھ سال کے بعد عشق پنشن پہ کیوں نہیں جاتا
Read Moreصابر ظفر
تجھ سے غافل کبھی رہیں گے نہیںیہ جو صابر ظفر ہیں گرد و نواح
Read Moreمحسن اسرار ۔۔۔ ہر تماشے میں جا گزیں ہو تم
ہر تماشے میں جا گزیں ہو تم کتنی اچھی تماشبیں ہو تم میں تو گزرا ہوا زمانہ ہوں کیوں مجھے بھولتی نہیں ہو تم اس قدر بولنا نہیں آتا ورنہ کہتا بہت حسیں ہو تم خوش ہوا خود کو میں فنا کر کے اس جہأں میں بھی ہم نشیں ہو تم جب امانت تھیں تم : امیں تھا میں اب امانت ہوں میں، امیں ہو تم سیر گاہیں نظر میں ہیں، ورنہ جانتا ہوں کہاں مکیں ہو تم یعنی تم اتنی دور تھیں مجھ سے میں تو سمجھا تھا کہ…
Read Moreاسحاق وردگ
تمھیں میری ضرورت بھی پڑے گی پرانے شہر کا نقشہ ہے مجھ میں
Read Moreطارق بٹ ۔۔۔ اک کہانی تھی دل سمائی ہوئی
اک کہانی تھی دل سمائی ہوئی کیا کہوں کون تھی، پرائی ہوئی کبھی پروا کبھی وہ باد صبا کہیں خوشبو کے بھیس آئی ہوئی دھوپ سائے سی جلوَگی اس کی سہمی سہمی، ادا نہائی ہوئی کار صورت گری تھا اس پہ تمام کیا تھی مورت، سجی سجائی ہوئی عشق کی اک ملامتی سی نظر اور جو پھر ہے جگ ہنسائی ہوئی وقت کی ڈھیل میں ہے ہر لمحہ ڈُور بھی اُس کی ہے لگائی ہوئی روز کٹتی ہے اک خیال پتنگ روز اک دید ماورائی ہوئی بجھتی جاتی ہے ہر…
Read Moreشاہد اشرف ۔۔۔ جتن کے بعد کہیں اِس طرح ہوا ہوں میں
جتن کے بعد کہیں اِس طرح ہوا ہوں میں شدید چوٹ لگی اور ہنس پڑا ہوں میں میں انتظار ہی کرتا رہا ہوں آہٹ کا نجانے کتنے چراغوں میں جل بجھا ہوں میں کسی بھی ذہن نے سوچا نہیں مجھے ورنہ خیال و خواب کے اندر پڑا ہوا ہوں میں سکوں ملا مجھے بے رنگ ہو کے دنیا میں ہر ایک رنگ کے کپڑے پہن چکا ہوں میں سفر سے لوٹ کے آیا تو سو گیا تھک کر کسی کے دھیان میں مدت سے جاگتا ہوں میں معاملات میں حسّاس…
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ حکم بے سوچے جو سرکار دیے دیتے ہیں
حکم بے سوچے جو سرکار دیے دیتے ہیں کیوں مجھے جرأتِ گفتار دیے دیتے ہیں خانہ بربادوں کو سائے میں بٹھانے کے لئے آپ گرتی ہوئے دیوار دیئے دیتے ہیں عشق اور ابروئے خمدار کا اس دل کے سپرد آپ دیوانے کو تلوار دیے دیتے ہیں آپ اک پھول بھی دیں گے تو اس احسان کے ساتھ جیسے گلزار کا گلزار دئیے دیتے ہیں
Read More