نہ آ جائے کسی پر دل کسی کا نہ ہو یا رب کوئی مائل کسی کا لگا اک ہاتھ بھی کیا دیکھتا ہے کہیں کرتے ہیں ڈر قاتل کسی کا ادا سے اس نے دو باتیں بنا کر کسی کی جان لے لی، دل کسی کا اٹھا جب دردِ پہلو، دل پکارا نہیں کوئی دمِ مشکل کسی کا ابھی جینا پڑا کچھ دن ہمیں اور ٹلا پھر وعدۂ باطل کسی کا بہت آہستہ چلمن کو اٹھانا ملیں آنکھیں کہ بیٹھا دل کسی کا حفیظ اس طرح بھرتے ہو جو آہیں…
Read MoreMonth: 2024 جون
سید آل احمد ۔۔۔ نہ سہی پیار‘ حقارت سے کبھی بول کے دیکھ
نہ سہی پیار‘ حقارت سے کبھی بول کے دیکھ کوئی تو زہر مری روح میں تو گھول کے دیکھ میری آواز کہاں تک تری دیوار بنے شدتِ کرب سے تو بھی تو کبھی بول کے دیکھ اپنی تنہائی کے اس گھور اندھیرے سے نکل کیا ہے باہر کی فضا آنکھ ذرا کھول کے دیکھ مجھ سے دریافت نئی صبح کا سورج ہوگا ریگِ صحرا کے اندھیروں میں مجھے رول کے دیکھ ماند پڑ جائے گی ہر مہر زر و سیم کی دھوپ مجھ کو میزانِ تحمل میں کبھی تول کے…
Read Moreقابل اجمیری
عاشقوں کے جمگھٹے میں تیری بزمِ ناز تک شمع بجھتے ہی بدل جاتا ہے پروانوں کا رُخ
Read Moreقابل اجمیری
ظلمت و نور میں تفریق ابھی مشکل ہے رات سو رنگ بدلتی ہے سحر ہونے تک
Read Moreقابل اجمیری۔۔۔ ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہے
ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہے وحشت بڑے دلچسپ دوراہے پہ کھڑی ہے آداب تری بزم کے جینے نہیں دیتے دیوانوں کو جینے کی تمنا تو بڑی ہے دل رسم و رہِ شوق سے مانوس تو ہو لے تکمیلِ تمنا کے لئے عمر پڑی ہے
Read Moreمحسن اسرار
وہ پاس تھاتو میں سنتا تھا، بولتا بھی تھا تعلقات کا اندازہ ہو رہا ہے اب
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ گیسو ہیں ان کے عارضِ تاباں کے ساتھ ساتھ
گیسو ہیں ان کے عارضِ تاباں کے ساتھ ساتھ کافر لگے ہوئے ہیں مسلماں کے ساتھ ساتھ سامان خاک آیا تھا انساں کے ساتھ ساتھ صرف ایک روح تھی تنِ عریاں کے ساتھ ساتھ اے ناخدا وہ حکمِ خدا تھا جو بچ گئی کشتی کو اب تو چھوڑ دےطوفاں کے ساتھ ساتھ اے باغباں گلوں پہ ہی بجلی نہیں گری ہم بھی لٹے ہیں تیرے گلستاں کے ساتھ ساتھ دو چار ٹانکے اور لگے ہاتھ بخیہ گر دامن بھی کچھ پھٹا ہے گریباں کے ساتھ ساتھ تم میرا خوں چھپا…
Read Moreافضل گوہر ۔۔۔ تمام بوجھ کہاں خاکداں پہ پڑتا ہے
تمام بوجھ کہاں خاکداں پہ پڑتا ہے کبھی کبھی تو قدم آسماں پہ پڑتا ہے یہ تیر یوں ہی نہیں دشمنوں تلک جاتے بدن کا سارا کھچاؤ کماں پہ پڑتا ہے تُو میرے سامنے آیا نہ کر عدو بن کر کہ ہر نشانہ مرا اب نشاں پہ پڑتا ہے تجھے زمین کے بارے میں علم ہے تو بتا اِس آسمان کا سایہ کہاں پہ پڑتا ہے اِدھر میں پاؤں اُٹھاتا ہوں اور اُدھر گوہر غبار سا صفِ سیاّرگاں پہ پڑتا ہے
Read Moreڈاکٹر جواز جعفری
مختلف چیزوں سے ساری عمر گھر بھرتا رہادکھ ہوا ہے ذات کے کمرے کو خالی دیکھ کر
Read Moreغلام حسین ساجد ۔۔۔ منزلِ عشق عیاں ، زیست کا حاصل معلوم (دو غزلہ)
منزلِ عشق عیاں ، زیست کا حاصل معلوم ہے مرے چارہ گروں کو مری مُشکل معلوم کون ہو گا جسے دُھتکار دیا جائے گا کون ہو گا ترے احباب میں شامل معلوم دہر بدلا ہے نہ دُنیا کی روش بدلے گی کون ہو گا یہاں تکریم کے قابل معلوم اپنی تہذیب کے پابند رہا کرتے ہیں اور ہوتے ہیں انھیں سارے سلاسل معلوم کس پہ ڈالے گا عنایت کی نظر ، جانتے ہیں کون ہے اُس کے تئیں عشق میں کامل معلوم منتخب اُس کو کِیا ہے مری دل داری…
Read More