احمد فراز

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا

Read More

Tha Grand Conversation by Paul Muldoon

She. My people came from Korelitz where they grew yellow cucumbers and studied the Talmud He. Mine pored over the mud of mangold- and potato-pits or flicked through kale plants from Comber as bibliomancers of old went a-flicking through deckle-mold She. Mine would lie low in the shtetl when they heard the distant thunder stolen by the Cossacks He. It was potato sacks lumped together on a settle mine found themselves lying under the Peep O’Day Boys from Loughgall making Defenders of us all She. Mine once controlled the sugar trade from the islets…

Read More

احمد فراز

صبح دم چھوڑ گیا نکہتِ گل کی صورت رات کو غنچۂ دل میں سمٹ آنے والا

Read More

سید آل احمد

مجھ سے دریافت نئی صبح کا سورج ہوگا ریگِ صحرا کے اندھیروں میں مجھے رول کے دیکھ

Read More

اردو  میں ادبی تاریخ کی روایت کی کمی ہے: شمس الرحمٰن فاروقی ۔۔۔ رضوان احمد

معروف نقاد اور محقق شمس الرحمن فاروقی نے بیس فروری (۲۰۰۹) کو تاریخی خدا بخش لائبریری میں ”اردو ادب کی نئی تاریخ کی ضرورت“ کے موضوع پر اپنا عالمانہ خطبہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے اردو میں ادبی تاریخ کی ترتیب کی کوئی اعلیٰ اور صالح روایت موجود نہیں رہی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جوشخص ڈیڑھ سو برس کی ذہنی غلامی سے آزاد ہو، وہی اردو ادب کی غیر جانب درانہ تاریخ لکھ سکتا ہے۔انہوں نے اپنے لکچر کے آغاز میں…

Read More

آلِ احمد سرور ۔۔۔ اردو تنقید کے بنیادی افکار

اردو میں تنقید مغرب کی دین ہے، تنقیدی شعور اس سے پہلے بھی تھا اور ایک طرف یہ فن کاروں کے اشارات و نکات میں ظاہر ہوتا تھا، دوسری طرف تذکروں کی مدح و قدح میں۔ مگر اس کی ضرورت اسی وقت محسوس ہوئی جب ۱۸۵۷ء کے بعد زندگی کے تقاضوں نے ادب کارخ موڑ دیا اور ادب کے مطالعے کے لیے ایک نئی نظر کی ضرورت پڑی۔ تذکروں میں فن کا تصور فنِ شریف کا ہے۔ اس میں جو افکار جھلکتے ہیں ان پر عینیت کا سایہ ہے۔ اس…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ ہمارے گرد ہے کیا جال سا یہ چالوں کا

ہمارے گرد ہے کیا جال سا یہ چالوں کا ملے جواب نہ اِس طرح کے سوالوں کا یہ ہم کہ گھونسلے جن کے ہیں زد پہ طوفاں کی لٹے گا چین ہمِیں سے خراب حالوں کا بہم پناہ ہمیشہ جنہیں ہے غاروں کی پھرا ہے اُن کی طرف رخ کہاں اجالوں کا دیا تو دینا پڑے گا ہمیں بھی لمحوں میں ہمارے نام ہے جو جو حساب سالوں کا کھُلا تو ہاتھ لگائیں گے سارے کانوں کو چمن میں حال ہے ماجد جو با کمالوں کا

Read More

محمد علوی ۔۔۔ تیسری آنکھ کھلے گی تو دکھائی دے گا

تیسری آنکھ کھلے گی تو دکھائی دے گا اور کے دن مرا ہم زاد جدائی دے گا وہ نہ آئے گا مگر دل یہ کہے جاتا ہے اس کے آنے کا ابھی شور سنائی دے گا دل کا آئینہ ہوا جاتا ہے دھندلا دھندلا کب ترا عکس اسے اپنی صفائی دے گا خوش تھا میں چہرے پہ آنکھوں کو سجا کر لیکن کیا خبر تھی مجھے کچھ بھی نہ سجھائی دے گا اپنے ہی خون میں آلودہ کیے بیٹھا ہوں کون اس ہاتھ میں اب دستِ حنائی دے گا موت…

Read More