She. My people came from Korelitz where they grew yellow cucumbers and studied the Talmud He. Mine pored over the mud of mangold- and potato-pits or flicked through kale plants from Comber as bibliomancers of old went a-flicking through deckle-mold She. Mine would lie low in the shtetl when they heard the distant thunder stolen by the Cossacks He. It was potato sacks lumped together on a settle mine found themselves lying under the Peep O’Day Boys from Loughgall making Defenders of us all She. Mine once controlled the sugar trade from the islets…
Read MoreTag: new poetry
احمد سہیل ۔۔۔ ن م راشد: اردو شاعری کو نیا لہجہ دینے والا باغی اور مزاحمتی شاعر
ن م راشد: اردو شاعری کو نیا لہجہ دینے والا باغی اور مزاحمتی شاعر ن م راشد یکم اگست 1910 کو گوجرانوالہ کے قصبے علی پور چٹھا/ کوٹ بگہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام راجا نذر محمد تھا۔ اردو ادب کی جدید تاریخ ن م راشد کے ذکر کے بغیر نا مکمل ہے۔ وہ جدید شاعری میں آزاد نظم کے بانی، علامت نگاری کی تحریک اور نفی دانش کے اولین مشعل بردار ہیں۔اسکول کے زمانے ہی سے راشد نے شعر گوئی شروع کر دی تھی اور بمشکل سات…
Read Moreشکیب جلالی ۔۔۔ رباعیات
تقدیسِ شباب سے شرارے پھوٹے انگڑائی کہ جیسے ماہتابی چھوٹے یوں اُٹھ کے گریں وہ شوخ بانہیں گویا اک ساتھ فلک سے دو ستارے ٹوٹے ۔۔۔۔۔۔۔ مے خانہ بدوش یہ گلابی آنکھیں زلفیں ہیں شبِ تار تو خوابی آنکھیں مستی کے جزیروں سے پکارا کوئی ساون کی پھواریں یہ شرابی آنکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ گل رنگ یہ زرکار سی بھوری کرنیں سیماب سے دھوئی ہوئی نوری کرنیں بلور سی بانہوں پہ دمکتے ہوئے بال مہتاب کی قاشوں پہ ادھوری کرنیں ۔۔۔۔۔۔۔ انگ انگ میں بہتے ہوئے مہ پارے ہیں کس درجہ شرر…
Read Moreڈاکٹر ابرار احمد ۔۔۔ مٹی تھی کس جگہ کی
مٹی تھی کس جگہ کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے فیض ساعتوں میںمنہ زور موسموں میںخود سے کلام کرتے اکھڑی ہوئی طنابوںدن بھر کی سختیوں سےاکتا کے سو گئے تھے بارش تھی بے نہایتمٹی سے اٹھ رہی تھیخوشبو، کسی وطن کیخوشبو سے جھانکتے تھےگلیاں، مکاں، دریچےاور بچپنے کے آنگناک دھوپ کے کنارےآسایشوں کے میداںاُڑتے ہوئے پرندے اک اجلے آسماں پردو نیم باز آنکھیںبیداریوں کی زد پرتاحدِ خاک اُڑتےبے سمت، بے ارادہکچھ خواب فرصتوں کےکچھ نام چاہتوں کے کن پانیوں میں اُترےکن بستیوں سے گذرےتھی صبح کس زمیں پراور شب کہاں پہ آئیمٹی تھی کس جگہ…
Read Moreنظم ۔۔۔۔ اختر حسین جعفری
نظم ۔۔۔۔ شام ڈھلے تو میلوں پھیلی خوشبو خوشبو گھاس میں رستے آپ بھٹکنے لگتے ہیں زلف کھلے تو مانگ کا صندل شوق طلب میں آپ سلگنے لگتا ہے شام ڈھلے تو زلف کھلے تو لفظوں! ان رستوں پر جگنو بن کر اڑنا راہ دکھانا دن نکلے تو تازہ دھوپ کی چمکیلی پوشاک پہن کر میرے ساتھ گلی کوچوں میں لفظوں! منزل منزل چلنا ہم دنیا کو حرف و صدا کی روشن شکلیں پھول سے تازہ عہد اور پیماں دکھلائیں گے دیواروں سے گلزاروں تک تنہائی کی فصل اگی ہے…
Read Moreجاں آشوب ۔۔۔ خالد علیم
جاں آشوب ۔۔۔۔۔۔۔ کیا نکلا سنگِ چقماق کے دَور سے یہ نادان پتھر بن کر رہ گیا پورا، مٹی کا انسان جذبے پتھر، سوچیں پتھر، آنکھیں بھی پتھر تن بھی پتھر، من بھی پتھر، پتھر ہے وجدان اپنے پتھر سینے میں ہے پتھر کی دھڑکن اپنے پتھر ہونٹوں پر ہے پتھر کی مسکان آج بھی ہم پتھر کی پوجا پاٹ میں بیٹھے ہیں اپنے ہاتھ سے آپ تراش کے پتھر کا بھگوان ۔۔۔۔ ہم نے شہر بنائے، ہم نے گھر آباد کیے ہم نے انسانوں کو دی تہذیبوں کی پہچان…
Read Moreمنطق ، منبر اَور مجمع ۔۔۔۔۔۔۔ شاہین عباس
منطق ، منبر اَور مجمع ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آدمی منہ ‘بناتا ہے جیسے گدھا گھاس کھاتا ہے دونوں میں منہ کا بنانا ‘ نوالہ چبانا‘ غٹا غٹ پیے جانا دن بھر میں پانی بھری بالٹی بالٹی میں ہنگالی پھر اِک بالٹی رہنمائی کے چالک رسد سے بھری ،گدلی نسواری کاٹھی سواری کی دُھن گارا تعمیر کا‘نعرہ تکبیر کا اور رسالت کا کتنی ہی قدریں ہیں جو مشترک ہیں الف الٹا لکھیں یا سیدھا لکھیں یہ الف ہی رہے گا! میاں جی‘ سنا آپ نے؟ قبلہ شاہ صاب ‘دیکھا….. مرے پنجہ ٔ دست…
Read More