کیا خبر تھی جو مری جاں میں گھلا ہے اتنا ہے وہی مجھ کو سر دار بھی لانے والا
Read MoreMonth: 2024 جون
محسن اسرار
ہر ایک شہر الگ ہے ہر ایک دشت الگ پہ ایک جیسی تپسیا نگر نگر کچھ ہے
Read Moreعون الحسن غازی
مری تشنہ لبی غازی کسی صورت نہیں جاتی وہ لب ٹِھٹھرے ہوئے لب ہیں، وہ چہرہ برف بستہ ہے
Read Moreعمران اعوان
کوئی تو ہوگا جسے دیکھنے گئے ہو گےوگرنہ تم تو محافل سے دور بھاگتے تھے
Read Moreفخر عباس
عام سی بات پہ فتویٰ نہ لگا دے کوئی اب مجھے شعر سناتے ہوئے ڈر لگتا ہے
Read Moreطارق بٹ ۔۔۔ یہ زندگی جو مرے چار سو ہُمکتی ہے
یہ زندگی جو مرے چار سو ہُمکتی ہے اِسی میں عصر کی آئندگی جَھلکتی ہے فریب دیتی ہے آنکھوں کو روشنی اس کی وداعِ شب، یہ جو کاذب سی لو بھڑکتی ہے اِسی دیار، کہ ہر سو سماں تھا میلے سا کسی تلاش میں، ویرانگی بھٹکتی ہے رہے نہ اب وہ سبک گام، قافلے، دل کے نہ خاک اُٹھ کے سرِ راہ سر پٹکتی ہے گلہ گزار نہ تجھ سے نہ اپنے آپ سے ہوں اسی کے کام ہیں، سارے میں جس کی شکتی ہے ہے غوطہ زن یہ نظر…
Read Moreشاہد اشرف
زندگی مشکل تھی لیکن اس قدر مشکل نہ تھیآنگنوں میں شب اترتی تھی سحر مشکل نہ تھی
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ خلقتِ شہر کو بے زباں دیکھنا
خلقتِ شہر کو بے زباں دیکھنا چاہتا تھا وہ ایسا سماں دیکھنا تِیر ہوتا ہے دیکھیں ترازو کہاں تن چکی پھر فلک کی کماں دیکھنا دو ہی منظر قفس میں بہم تھے ہمیں تِیلیاں دیکھنا۔۔۔۔آسماں دیکھنا بچپنے سے لگی ہے یہی دھُن ہمیں گل بہ گل آس کی تتلیاں دیکھنا کیوں وطیرہ ہی ماجد تِرا ہو گیا شاخِ گل سے جھڑی پتّیاں دیکھنا
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ بجا ہے حکم کی تعمیل مانتا ہوں میں
بجا ہے حکم کی تعمیل مانتا ہوں میں اگر حضور نے یہ کہہ دیا خدا ہوں میں پڑے گا اور بھی کیا وقت میری کشتی پر کہ ناخدا نہیں کہتا کہ ناخدا ہوں میں تمھارے تیرِ نظر نے غریب کی نہ سنی ہزار دل نے پکارا کہ بے خطا ہوں میں سمجھ رہا ہوں قمر راہزن بجھا دے گا چراغِ راہ ہوں رستے میں جل رہا ہوں میں
Read Moreبشیر بدر
سر سے پا تک وہ گلابوں کا شجر لگتا ہے باوضو ہو کے بھی چھوتے ہوئے ڈر لگتا ہے
Read More