میں تو گھر سے کبھی نہیں نکلا کس کا نقشِ قدم ہے چار طرف
Read MoreMonth: 2024 جون
ماجد صدیقی ۔۔۔ خلق چاہے اُسے حسین کوئی، وقت با صورتِ دگر دے دے
خلق چاہے اُسے حسین کوئی، وقت با صورتِ دگر دے دے ہاتھ دستِ یزید میں جو نہ دے حق سرائی میں اپنا سر دے دے اہلِ حق کو جو فتحِ مکہ دے اے خدا تجھ سے کچھ بعید نہیں اشک ہیں جس طرح کے آنکھوں میں دامنوں کو وہی گہر دے دے ہوں بھسم آفتوں کے پرکالے بُوندیوں میں بدل چلیں ژالے جو بھی واماندگانِ گلشن ہیں رُت انہیں پھر سے بال و پر دے دے لَوث جس کونہ چھُو کے گزری ہو جس میں خُو خضرِ دستگیر کی ہو…
Read Moreافضل گوہر
چھاؤں تو پہلے ہی بہت کم تھی پیڑ بھی دھوپ کا بنا دیا ہے
Read Moreشاہین عباس
کچھ اضافہ کیا ہے کچھ ترمیم خود کو اک واقعہ بنا دیا ہے
Read Moreاحمد مشتاق
اب رات تھی اور گلی میں رکنا اس وقت عجیب سا لگا تھا
Read Moreآدرش دبے
ٹھہری ٹھہری سی زندگی کیوں ہے میری آنکھوں میں یہ نمی کیوں ہے
Read Moreاحمد فراز
کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سے وہ جو اک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا
Read Moreاکبر الہ آبادی
نا تجربہ کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیں اس رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ دھوکا تھا ہر اِک برگ پہ ٹوٹے ہوئے پر کا
دھوکا تھا ہر اِک برگ پہ ٹوٹے ہوئے پر کا وا جس کے لیے رہ گیا دامان ، شرر کا میں اشک ہوں، میں اوس کا قطرہ ہوں، شرر ہوں انداز بہم ہے مجھے پانی کے سفر کا کروٹ سی بدلتا ہے اندھیرا تو اُسے بھی دے دیتے ہیں ہم سادہ منش، نام سحر کا تہمت سی لئے پھرتے ہیں صدیوں سے سر اپنے رُسوا ہے بہت نام یہاں اہلِ ہُنر کا قائم نہ رہا خاک سے جب رشتۂ جاں تو بس دھول پتہ پوچھنے آتے تھی شجر کا جو…
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ گیسو ہیں ان کے عارضِ تاباں کے ساتھ ساتھ
گیسو ہیں ان کے عارضِ تاباں کے ساتھ ساتھ کافر لگے ہوئے ہیں مسلماں کے ساتھ ساتھ سامان خاک آیا تھا انساں کے ساتھ ساتھ صرف ایک روح تھی تنِ عریاں کے ساتھ ساتھ اے ناخدا وہ حکمِ خدا تھا جو بچ گئی کشتی کو اب تو چھوڑ دے طوفاں کے ساتھ ساتھ اے باغباں گلوں پہ ہی بجلی نہیں گری ہم بھی لٹے ہیں تیرے گلستاں کے ساتھ ساتھ تم میرا خوں چھپا تو رہے ہو خبر بھی ہے دو دو فرشتے رہتے ہیں انساں کے ساتھ ساتھ اہلِ…
Read More