کوئی تصویر مکمل نہیں ہونے پاتی دھوپ دیتے ہیں تو سایا نہیں رہنے دیتے
Read MoreTag: احمد مشتاق کی غزلیں
احمد مشتاق
پتا اب تک نہیں بدلا ہمارا وہی گھر ہے وہی قصہ ہمارا
Read Moreاحمد مشتاق
اب رات تھی اور گلی میں رکنا اس وقت عجیب سا لگا تھا
Read Moreاحمد مشتاق
اب شام تھی اور گلی میں رکنا اُس وقت عجیب سا لگا تھا
Read Moreاحمد مشتاق ۔۔۔۔۔ یہ کون خواب میں چھو کر چلا گیا مرے لب
یہ کون خواب میں چھو کر چلا گیا مرے لب پکارتا ہوں تو دیتے نہیں صدا مرے لب یہ اور بات کسی کے لبوں تلک نہ گئے مگر قریب سے گزرے ہیں بارہا مرے لب اب اس کی شکل بھی مشکل سے یاد آتی ہے وہ جس کے نام سے ہوتے نہ تھے جدا مرے لب اب ایک عمر سے گفت و شنید بھی تو نہیں ہیں بے نصیب مرے کان بے نوا مرے لب یہ شاخسانۂ وہم و گمان تھا شاید کجا وہ ثمرۂ باغِ طلب کجا مرے لب
Read More