حفیظ جونپوری ۔۔۔ لکھ دے عامل کوئی ایسا تعویذ

لکھ دے عامل کوئی ایسا تعویذ یار ہو جائے گلے کا تعویذ کب مسخر یہ حسیں ہوتے ہیں سب یہ بیکار ہے گنڈا تعویذ نہ ہوا یار کا غصہ ٹھنڈا بارہا دھو کے پلایا تعویذ سر سے گیسو کی بلا جاتی ہے لائے تو رد بلا کا تعویذ مر کے بھی دل کی تڑپ اتنی ہے شق ہوا میری لحد کا تعویذ ہر طرح ہوتی ہے مایوسی جب لوگ کرتے ہیں دعا یا تعویذ آرزو خاک میں دشمن کی ملے اس لیے دفن کیا تھا تعویذ ہاتھ سے اپنے جو…

Read More

حفیظ جونپوری ۔۔۔ دل اس لیے ہے دوست کہ دل میں ہے جائے دوست

دل اس لیے ہے دوست کہ دل میں ہے جائے دوست جب یہ نہ ہو بغل میں ہے دشمن بجائے دوست مٹنے کی آرزو ہے اسی رہ گزار میں اتنے مٹے کہ لوگ کہیں خاکِ پائے دوست تقریر کا ہے خاص ادائے بیاں میں لطف سنیے مری زبان سے کچھ ماجرائے دوست سب کچھ ہے اور کچھ نہیں عالم کی کائنات دنیا برائے دوست ہے عقبیٰ برائے دوست

Read More

حفیظ جونپوری ۔۔۔ شبِ وصال یہ کہتے ہیں وہ سنا کے مجھے

شبِ وصال یہ کہتے ہیں وہ سنا کے مجھے کسی نے لوٹ لیا اپنے گھر بلا کے مجھے پکارتا نہیں کوئی لحد پر آ کے مجھے مرے نصیب بھی کیا سو رہے سلا کے مجھے وہ بولے وصل کے شب آپ میں نہ پا کے مجھے چلے گئے ہیں کہاں اپنے گھر بلا کے مجھے گرا دیا ہے کچھ اس طرح اس نے آنکھوں سے کہ دیکھتا نہیں کوئی نظر اٹھا کے مجھے پری تھی کوئی چھلاوا تھی یا جوانی تھی کہاں یہ ہو گئی چمپت جھلک دکھا کے مجھے…

Read More

حفیظ جونپوری ۔۔۔ ہائے اب کون لگی دل کی بجھانے آئے

ہائے اب کون لگی دل کی بجھانے آئے جن سے امید تھی اور آگ لگانے آئے درد مندوں کی یوں ہی کرتے ہیں ہمدردی لوگ خوب ہنس ہنس کے ہمیں آپ رلانے آئے خط میں لکھتے ہیں کہ فرصت نہیں آنے کی ہمیں اس کا مطلب تو یہ ہے کوئی منانے آئے آنکھ نیچی نہ ہوئی بزمِ عدو میں جا کر یہ ڈھٹائی کہ نظر ہم سے ملانے آئے طعنے بے صبر یوں کے ہائے تشفی کے عوض اور دکھتے ہوئے دل کو وہ دکھانے آئے اور تو سب کے…

Read More

حفیظ جون پوری ۔۔۔ نہ آ جائے کسی پر دل کسی کا

نہ آ جائے کسی پر دل کسی کا نہ ہو یا رب کوئی مائل کسی کا لگا اک ہاتھ بھی کیا دیکھتا ہے کہیں کرتے ہیں ڈر قاتل کسی کا ادا سے اس نے دو باتیں بنا کر کسی کی جان لے لی، دل کسی کا اٹھا جب دردِ پہلو، دل پکارا نہیں کوئی دمِ مشکل کسی کا ابھی جینا پڑا کچھ دن ہمیں اور ٹلا پھر وعدۂ باطل کسی کا بہت آہستہ چلمن کو اٹھانا ملیں آنکھیں کہ بیٹھا دل کسی کا حفیظ اس طرح بھرتے ہو جو آہیں…

Read More

حفیظ جون پوری

مجھ سا بدمست کوئی رندِ قدح نوش نہیںکب بہار آئی تھی اتنا بھی یہاں ہوش نہیں

Read More