آپ ہی سے نہ جب رہا مطلب پھر رقیبوں سے مجھ کو کیا مطلب آرزو میرے دل کی بر آئے سب کا پورا کرے خدا مطلب کر نہ مجھ کو سبک رقیبوں میں یوں ہنسی میں نہ تو اڑا مطلب رک گئی بات تا زباں آ کر دل کا دل ہی میں رہ گیا مطلب ضد ہی ضد شیخ و برہمن کی تھی ورنہ دونوں کا ایک تھا مطلب میری اک بات میں ہیں سو پہلو اور سب کا جدا جدا مطلب غیر کی اور اس قدر تعریف ہم سمجھتے…
Read MoreTag: jaunpuri
حفیظ جونپوری ۔۔۔ کہا یہ کس نے کہ وعدے کا اعتبار نہ تھا
کہا یہ کس نے کہ وعدے کا اعتبار نہ تھا وہ اور بات تھی جس سے مجھے قرار نہ تھا شبِ وصال وہ کس ناز سے یہ کہتے ہیں ہمارے ہجر میں سچ مچ تجھے قرار نہ تھا بگھارتا ہے جو اب شیخ زہد کی باتیں تو کیا یہ عہدِ جوانی میں بادہ خوار نہ تھا فقط تھی ایک خموشی مرے سخن کا جواب نہیں نہیں تجھے کہنا ہزار بار نہ تھا یہ مجھ کو دیکھتے ہی تو نے کیوں چرائی آنکھ نگاہِ لطف کا کیا میں امیدوار نہ تھا…
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ شب وصل ہے بحث حجت عبث
شب وصل ہے بحث حجت عبث یہ شکوے عبث یہ شکایت عبث ہوا ان کو کب اعتماد وفا جتاتے رہے ہم محبت عبث یہاں اب تو کچھ اور سامان ہے وہ آتے ہیں بہر عیادت عبث نصیبوں سے اپنے ہے شکوہ ہمیں کریں کیوں کسی کی شکایت عبث مرا حال سن کر وہ ہیں بے قرار کیا کس نے ذکر محبت عبث فلک مر مٹوں سے نہ رکھ یہ غبار مٹا بے کسوں کی نہ تربت عبث سنوں گا تری ہوش میں آ تو لوں ابھی سے ہے ناصح نصیحت…
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ لکھ دے عامل کوئی ایسا تعویذ
لکھ دے عامل کوئی ایسا تعویذ یار ہو جائے گلے کا تعویذ کب مسخر یہ حسیں ہوتے ہیں سب یہ بیکار ہے گنڈا تعویذ نہ ہوا یار کا غصہ ٹھنڈا بارہا دھو کے پلایا تعویذ سر سے گیسو کی بلا جاتی ہے لائے تو رد بلا کا تعویذ مر کے بھی دل کی تڑپ اتنی ہے شق ہوا میری لحد کا تعویذ ہر طرح ہوتی ہے مایوسی جب لوگ کرتے ہیں دعا یا تعویذ آرزو خاک میں دشمن کی ملے اس لیے دفن کیا تھا تعویذ ہاتھ سے اپنے جو…
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ خود بہ خود آنکھ بدل کر یہ سوال اچھا ہے
خود بہ خود آنکھ بدل کر یہ سوال اچھا ہے روز کب تک کوئی پوچھا کرے: حال اچھا ہے؟ ہجر میں عیش گزشتہ کا خیال اچھا ہے ہو جھلک جس میں خوشی کی وہ مآل اچھا ہے داغ بہتر ہے وہی ہو جو دل عاشق میں جو رہے عارض خوباں پہ وہ خال اچھا ہے دیکھ ان خاک کے پتلوں کی ادائیں زاہد ان سے کس بات میں حوروں کا جمال اچھا ہے کیجیے اور بھی شکوے کہ مٹے دل کا غبار باتوں باتوں میں نکل جائے ملال اچھا ہے…
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ کرنا جو محبت کا اقرار سمجھ لینا
کرنا جو محبت کا اقرار سمجھ لینا اک بار نہیں اس کو سو بار سمجھ لینا ہم ہوں کہ عدو اس میں جو ظلم کا شاکی ہو کرتا ہی نہیں تم کو وہ پیار سمجھ لینا مر جائے مگر جانا اس کی نہ عیادت کو تم جس کو محبت کا بیمار سمجھ لینا بن بن کے بگڑتا ہے وہ کام محبت میں آسان نہیں جس کو دشوار سمجھ لینا غفلت کدۂ ہستی جب کہتے ہیں عالم کو سودا ہے پھر اپنے کو ہشیار سمجھ لینا محفل میں رقیبوں کی جانا…
Read Moreحفیظ جون پوری
مجھ سا بدمست کوئی رندِ قدح نوش نہیںکب بہار آئی تھی اتنا بھی یہاں ہوش نہیں
Read Moreوامق جونپوری
مَیں کچھ اپنے سے باتیں کر رہا ہوں یہ تنہائی نہیں، اک انجمن ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: شب چراغ پبلشر: نکہت پبلی کیشنز، الہ آباد مطبع: نیشنل آرٹ پرنٹرس، الہ آباد سنِ اشاعت: ۱۹۷۸ء
Read More