قابل اجمیری

عاشقوں کے جمگھٹے میں تیری بزمِ ناز تک شمع بجھتے ہی بدل جاتا ہے پروانوں کا رُخ

Read More

قابل اجمیری

ظلمت و نور میں تفریق ابھی مشکل ہے رات سو رنگ بدلتی ہے سحر ہونے تک

Read More

قابل اجمیری

اختیاراتِ محبت کو سمجھتا ہوں میں آپ بے وجہ بھی کر سکتے ہیں برباد مجھے

Read More

قابل اجمیری

چشمِ میگوں پہ ہیں سیہ پلکیں یا گھٹائیں شراب خانے پر

Read More

قابل اجمیری

راہ پرخار ہے اور رات اندھیری قابلؔ دور تک کوئی چراغِ رخِ زیبا بھی نہیں

Read More

قابل اجمیری

ہم بے کسوں کی بزم میں آئے گا اور کون آ بیٹھتی ہے گردشِ دوراں کبھی کبھی

Read More

قابل اجمیری

احباب کے فریبِ مسلسل کے باوجود کھنچتا ہے دل خلوص کی آواز پر ابھی

Read More

قابل اجمیری

لوگ لے آتے ہیں کعبہ سے ہزاروں تحفے ہم سے اک بت بھی نہ لایا گیا بت خانے سے

Read More

قابل اجمیری

ہاں ہوشیار، چشمِ فسوں کار ہوشیار دل کو تری نگاہ کے انداز آ گئے

Read More

قابل اجمیری

قدم قدم پہ لیا انتقام دنیا نے تجھی کو جیسے گلے سے لگائے پھرتے ہیں

Read More