قابل اجمیری

عاشقوں کے جمگھٹے میں تیری بزمِ ناز تک شمع بجھتے ہی بدل جاتا ہے پروانوں کا رُخ

Read More

قابل اجمیری

ظلمت و نور میں تفریق ابھی مشکل ہے رات سو رنگ بدلتی ہے سحر ہونے تک

Read More

قابل اجمیری۔۔۔ ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہے

ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہے وحشت بڑے دلچسپ دوراہے پہ کھڑی ہے آداب تری بزم کے جینے نہیں دیتے دیوانوں کو جینے کی تمنا تو بڑی ہے دل رسم و رہِ شوق سے مانوس تو ہو لے تکمیلِ تمنا کے لئے عمر پڑی ہے

Read More

قابل اجمیری

اختیاراتِ محبت کو سمجھتا ہوں میں آپ بے وجہ بھی کر سکتے ہیں برباد مجھے

Read More

قابل اجمیری

بہت دلچسپ ہیں ناصح کی باتیں بھی مگر قابل محبت ہو تو اندازِ بیاں کچھ اور ہوتا ہے

Read More

قابل اجمیری

احباب کے فریبِ مسلسل کے باوجود کھنچتا ہے دل خلوص کی آواز پر ابھی

Read More