استاد قمر جلالوی ۔۔۔ بنتا نہیں ہے حسنِ ستم گر شباب میں

بنتا نہیں ہے حسنِ ستم گر شباب میں ہوتے ہیں ابتدا ہی سے کانٹے گلاب میں جلوے ہوئے نہ جذب رخِ بے نقاب میں کرنیں سمٹ کے آ نہ سکیں آفتاب میں بچپن میں یہ سوال قیامت کب آئے گی بندہ نواز آپ کے عہدِ شباب میں صیاد آج میرے نشیمن کی خیر ہو بجلی قفس پہ ٹوٹتی دیکھی ہے خواب میں آغازِ شوقِ دید میں اتنی خطا ہوئی انجام پر نگاہ نہ کی اضطراب میں اب چھپ رہے ہو سامنے آ کر خبر بھی ہے تصویر کھنچ گئی نگہِ…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ حکم بے سوچے جو سرکار دیے دیتے ہیں

حکم بے سوچے جو سرکار دیے دیتے ہیں کیوں مجھے جرأتِ گفتار دیے دیتے ہیں خانہ بربادوں کو سائے میں بٹھانے کے لیے آپ گرتی ہوئے دیوار دیئے دیتے ہیں عشق اور ابروئے خم دار کا اس دل کے سپرد آپ دیوانے کو تلوار دیے دیتے ہیں آپ اک پھول بھی دیں گے تو اس احسان کے ساتھ جیسے گلزار کا گلزار دیے دیتے ہیں

Read More