یہ محبت کا علاقہ ہے، یہاں دل ہی کافی ہے نگہبانی کو
Read MoreMonth: 2024 جون
سجاد بلوچ
تم نے اچھا ہی کیا چھوڑ گئے، ویسے بھی ایک سائے سے بھلا کیسے سنبھلتا سایہ
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ بنتا نہیں ہے حسنِ ستم گر شباب میں
بنتا نہیں ہے حسنِ ستم گر شباب میں ہوتے ہیں ابتدا ہی سے کانٹے گلاب میں جلوے ہوئے نہ جذب رخِ بے نقاب میں کرنیں سمٹ کے آ نہ سکیں آفتاب میں بچپن میں یہ سوال قیامت کب آئے گی بندہ نواز آپ کے عہدِ شباب میں صیاد آج میرے نشیمن کی خیر ہو بجلی قفس پہ ٹوٹتی دیکھی ہے خواب میں آغازِ شوقِ دید میں اتنی خطا ہوئی انجام پر نگاہ نہ کی اضطراب میں اب چھپ رہے ہو سامنے آ کر خبر بھی ہے تصویر کھنچ گئی نگہِ…
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ حکم بے سوچے جو سرکار دیے دیتے ہیں
حکم بے سوچے جو سرکار دیے دیتے ہیں کیوں مجھے جرأتِ گفتار دیے دیتے ہیں خانہ بربادوں کو سائے میں بٹھانے کے لیے آپ گرتی ہوئے دیوار دیئے دیتے ہیں عشق اور ابروئے خم دار کا اس دل کے سپرد آپ دیوانے کو تلوار دیے دیتے ہیں آپ اک پھول بھی دیں گے تو اس احسان کے ساتھ جیسے گلزار کا گلزار دیے دیتے ہیں
Read Moreباقی صدیقی
کچھ نہ پا کر بھی مطمئن ہیں ہم عشق میں ہاتھ کیا خزانے لگے
Read Moreاسرار الحق مجاز
کچھ تمھاری نگاہ کافر تھی کچھ مجھے بھی خراب ہونا تھا
Read Moreساغر صدیقی
یہ کناروں سے کھیلنے والے ڈوب جائیں تو کیا تماشا ہو
Read Moreعظیم بسمل آبادی
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
Read Moreامیر قزلباش
اسی کا شہر وہی مدعی وہی منصف ہمیں یقیں تھا ہمارا قصور نکلے گا
Read Moreاحمد حسین مجاہد
مجھ کو میرے سب شہیدوں کے تقدس کی قسم ایک طعنہ ہے مجھے شانوں پہ سر رکھا ہوا
Read More