شہر کا ماجرا نہ پوچھ، شہر تو یوں ہوا کہ بس! گھر میں کوئی گلی ہوئی، جیسے گلی میں گھر ہوا
Read MoreMonth: 2025 جون
شاہین عباس
یہ دن اور رات جس جانب اُڑے جاتے ہیں صدیوں سے کہیں رُکتے ، تو میں بھی شاملِ پرواز ہو سکتا
Read Moreشاہین عباس
چلتے پانی کا کیا کیا جائے اِس کہانی کا کیا کیا جائے
Read Moreشاہین عباس
یہ وقت کا آخری ورق ہے اور یہ بھی کہیں اُلٹ نہ جائے
Read Moreشاہین عباس
لوگ ہم جیسے بھی کچھ دیر گوارا کیے جائیں ایک نام ایک ندا پر جو گزارا کیے جائیں
Read Moreشاہین عباس
پتھر ہے، کلام جانتا ہے اس شخص کو ہم کلام کیجئے
Read Moreشاہین عباس
مٹی کو عذاب ہو رہا ہے تعمیر مری تمام کیجئے
Read Moreشاہین عباس
اب جو گھر اِن پہ گرا ہے تو کُھلے ہیں ، ورنہ یہ مکیں ، لگتا نہیں تھا ، کہ مکاں والے ہیں
Read Moreشاہین عباس
ہمیں توآتے جاتے ہی ملا ہے جب بھی دیکھا ہے یہ روزانہ کا جھونکا کیا پتہ کتنا پرانا ہے
Read Moreشاہین عباس
سمتوں کا اِس قدر خیال ؟ سمتوں کا اِس قدر ملال؟ چاروں کے بیچ بیٹھ کر ، چاروں کا غم کیا گیا
Read More