شاہین عباس

شہر کا ماجرا نہ پوچھ، شہر تو یوں ہوا کہ بس! گھر میں کوئی گلی ہوئی، جیسے گلی میں گھر ہوا

Read More

شاہین عباس

یہ دن اور رات جس جانب اُڑے جاتے ہیں صدیوں سے کہیں رُکتے ، تو میں بھی شاملِ پرواز ہو سکتا

Read More

شاہین عباس

چلتے پانی کا کیا کیا جائے اِس کہانی کا کیا کیا جائے

Read More

شاہین عباس

یہ وقت کا آخری ورق ہے اور یہ بھی کہیں اُلٹ نہ جائے

Read More

شاہین عباس

لوگ ہم جیسے بھی کچھ دیر گوارا کیے جائیں ایک نام ایک ندا پر جو گزارا کیے جائیں

Read More

شاہین عباس

پتھر ہے، کلام جانتا ہے اس شخص کو ہم کلام کیجئے

Read More

شاہین عباس

مٹی کو عذاب ہو رہا ہے تعمیر مری تمام کیجئے

Read More

شاہین عباس

اب جو گھر اِن پہ گرا ہے تو کُھلے ہیں ، ورنہ یہ مکیں ، لگتا نہیں تھا ، کہ مکاں والے ہیں

Read More

شاہین عباس

ہمیں توآتے جاتے ہی ملا ہے جب بھی دیکھا ہے یہ روزانہ کا جھونکا کیا پتہ کتنا پرانا ہے

Read More

شاہین عباس

سمتوں کا اِس قدر خیال ؟ سمتوں کا اِس قدر ملال؟ چاروں کے بیچ بیٹھ کر ، چاروں کا غم کیا گیا

Read More