شاہین عباس

کوئی تو بات ہے کہ دن آج بھی ختم ہو گیا یوں ہی یہ رات ہے رواں ، پھر بھی رواں یونہی نہیں

Read More

شاہین عباس

رات اک دہلیز ایسی آ گئی تھی خواب میں رات کچھ کچھ اپنی پیشانی کا اندازہ ہوا

Read More

شاہین عباس

شہر میں داخلے کی شرط ، جسم نہیں تھا ، روح تھی جسم کا جسم رکھ دیا ،سر سے کہیں اتار کر

Read More

شاہین عباس

میں سیڑھیاں چڑھتا چلا جاتا ہوں کہ جالوں اوپر کی وہ تنہائی ، وہ اوپر کی اداسی

Read More

شاہین عباس

حاشیے کے دونوں جانب نام ہیں ، اور صرف نام یہ جو خالی ہے جگہ ، یہ بھی کسی کا نام ہے

Read More

حفیظ جونپوری ۔۔۔ لکھ دے عامل کوئی ایسا تعویذ

لکھ دے عامل کوئی ایسا تعویذ یار ہو جائے گلے کا تعویذ کب مسخر یہ حسیں ہوتے ہیں سب یہ بیکار ہے گنڈا تعویذ نہ ہوا یار کا غصہ ٹھنڈا بارہا دھو کے پلایا تعویذ سر سے گیسو کی بلا جاتی ہے لائے تو رد بلا کا تعویذ مر کے بھی دل کی تڑپ اتنی ہے شق ہوا میری لحد کا تعویذ ہر طرح ہوتی ہے مایوسی جب لوگ کرتے ہیں دعا یا تعویذ آرزو خاک میں دشمن کی ملے اس لیے دفن کیا تھا تعویذ ہاتھ سے اپنے جو…

Read More

شاہین عباس

عجب کیا وقت کا یہ آخری پھیرا ہو یاں پر گلی کوچے اب اِس رہ گیر سے تنگ آ گئے ہیں

Read More

شاہین عباس

ہم تھے کہ رات دن کے داغ ، جیسے صدی صدی کے باغ یعنی گزرتے وقت کا ، ہم پہ بہت اثر ہوا

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ رہن جن کے عوض ہو متاعِ انا ،ہیں شرف کی مجھے وہ قبائیں ملیں

رہن جن کے عوض ہو متاعِ انا ،ہیں شرف کی مجھے وہ قبائیں ملیں میں وہ بد بخت فرزندِ اجداد ہُوں جس کو ورثے میں ہوں التجائیں ملیں دیر تھی گر تو اتنی کہ نکلے نہ تھے بال و پر اور جب یوں بھی ہونے لگا فصل کٹنے پہ کھیتوں سی اُجٹری ہوئی کیا سے کیا کچھ نہ رنجور مائیں ملیں بخت کسبِ سعادت میں بھی کیا کہوں صیدِ اضداد ٹھہرا ہے کچھ اِس طرح دیس ماتا کی خفگی سے رد ہو گئیں ماں کی جانب سے جتنی دعائیں ملیں…

Read More

شاہین عباس

کبھی حیراں، کبھی ویراں ، تو کبھی شاد آباد میں خلل ڈالتا آیا ہوں جہاں میں ایسا

Read More