تو اگر ہم نشین ہو جائے زندگی پر یقین ہو جائے آسماں بعد کی کہانی ہے پہلے میری زمین ہو جائے آنکھ پر بھی کریگا پی ایچ ڈی آشنائے جبین ہو جائے پھونک پڑھ پڑھ کے سورۂ یوسف تاکہ بیٹا حسین ہو جائے اسکو مسند پہ بھی بٹھائیں گے قابلِ آستین ہو جائے
Read MoreDay: اگست 17، 2025
بشیر احمد حبیب ۔۔۔ دور رہتا بھی نہیں پاس آتا بھی نہیں
بشیر احمد حبیب کی یہ غزل وصل و ہجر کے بیچ معلق اس کیفیت کا شاعرانہ بیان ہے جہاں محبوب ایک ماورائی سایے کی مانند نہ پوری طرح قریب ہے نہ بالکل غائب۔ یہ کلام اس ادھورے تعلق کے خلاف خاموش احتجاج ہے جو دل و دماغ پر ابرِ مسلسل کی طرح چھایا رہتا ہے۔
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ افروز رضوی
افروز رضوی کی یہ نعت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، روحانی روشنی اور حق کی کامیابی کی آرزو کو نہایت عقیدت سے بیان کرتی ہے۔
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ صحنوں کی گھُٹن شہر کا مینار نہ جانے
ماجد صدیقی کی یہ غزل جذبات اور احساسات کو خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ اس میں ذاتی دکھ، سماجی ناانصافی اور انسان کے اندرونی و بیرونی تضادات کو سادہ مگر علامتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ شاعر اپنے کلام کے ذریعے دکھاتا ہے کہ انسان کے اندر کے درد اور باہر کی سخت حقیقتیں کس طرح آپس میں ٹکراتی ہیں۔
Read Moreسرور فرحان ۔۔۔ یہ الگ بات کہ ہر پل مجھے ٹالا ہو گا
یہ الگ بات کہ ہر پل مجھے ٹالا ہو گا پھر بھی ہر شعر ترے ہجر کا نالہ ہو گا آج بھی بھوکے ہی مزدُور کے بچے سوئے کل پہ اُجرت کو کسی شخص نے ٹالا ہو گا تجھ کو کیا علم بچھڑتے ہو ئے تجھ سے میں نے کیسے کیسے دلِ مُضطر کو سنبھالا ہو گا کر کے رُسوا مجھے صحرا میں جو لے آئی ہے زندگی یہ بھی ترے بُغض کا چالا ہو گا ظلم دیکھیں گے مگر بول نہیں پائیں گے یوں سبھی لوگوں کے ہونٹوں پہ…
Read Moreنائلہ راٹھور ۔۔۔ خودفراموشی
خودفراموشی ۔۔۔۔ ضروری نہیں جنہیں ہم زندگی سے زیادہ اہم سمجھتے ہوں ان کے لئے بھی ہم اتنے ہی اہم ہوں کبھی کبھی ہم ساتھ تو ہوتے ہیں لیکن محسوس نہیں ہوتے وقت کے پلوں کے نیچے سے پانی گزر جاتا ہے خامشی روح میں گھر کر لیتی ہے زیست تنہا پسند ہو جاتی ہے ہم خود کو اتنا اکیلا کر لیتے ہیں کہ ہمیں خود کی بھی ضرورت نہیں رہتی اپنی ذات سے لاتعلقی بھی کبھی کبھی نعمت لگتی ہے درد ہوتے ہوئے بھی محسوس نہیں ہوتا ہجر و…
Read More