اس بار جب اجل سے مرا سامنا ہوا کشتی سے خواب، ہاتھ سے پتوار گر پڑے
Read MoreDay: اگست 17، 2025
محمد اشفاق بیگ ۔۔۔ رہنے کو جو اک دشت میں گھر ڈھونڈ رہے ہیں
رہنے کو جو اک دشت میں گھر ڈھونڈ رہے ہیں ہم خود میں اذیت کا ہنر ڈھونڈ رہے ہیں کل تک تھا جنھیں آبلہ پائی پہ بہت ناز وہ لوگ بھی صحرا میں شجر ڈھونڈ رہے ہیں ہر سمت محبت کے گلابوں کی مہک ہو آشائوں کا اک ایسا نگر ڈھونڈ رہے ہیں دیوار تو دونوں نے ہی مل کر تھی اٹھائی اب دونوں ہی دیوار میں در ڈھونڈ رہے ہیں تا عمر جفائوں کے جو بوتے رہے کانٹے وہ اپنی وفائوں کا ثمر ڈھونڈ رہے ہیں ہر کوچہ و…
Read Moreساقی فاروقی
دریا ہوں کسی روز معاون کی طرح مل یہ کیا کہ ہم اک لہر میں بہہ بھی نہیں سکتے
Read Moreمحسن اسرار
تم اپنے رزق کو ہم سے چھپا کے مت رکھنا گزر بسر کا طریقہ الگ ہمارا ہے
Read Moreانور شعور
سڑک پہ سوئے ہوئے آدمی کو سونے دو وہ خواب میں تو پہنچ جائے گا بسیرے تک
Read Moreجون ایلیا
ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک بات نہیں کہی گئی، بات نہیں سنی گئی
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ اعجاز دانش
سارے جہاں میں دھوم نبیؐ کے نگر کی ہے وہ سر زمینِ پاک شہِ بحر و بر کی ہے چھائی ہوئی ہے ارض و سما پر جو ہر طرف وہ روشنی حضورؐ ترے بام و در کی ہے ہم کو تو آپؐ ہی کی شفاعت پہ ہے یقیں اس دل میں کوئی جا نہیں خوف و خطر کی ہے شعر و سخن پہ کیوں نہ مجھے افتخار ہو وابستگی حضورؐ سے میرے ہنر کی ہے جو روشنی ازل سے ابد تک ضیا کرے ایسی کہاں مجال وہ شمس و قمر…
Read Moreاحمد فراز
ہنس نہ اتنا بھی فقیروں کے اکیلے پن پر جا خدا میری طرح تجھ کو بھی تنہا رکھے
Read Moreمحمد علی ادیب ۔۔۔ عشق کا دیکھا ہے اثر میں نے
عشق کا دیکھا ہے اثر میں نے دل پہ جھیلا ہے اک غدر میں نے درد سے کر لی دوستی آخر جب نہیں پایا چارہ گر میں نے ایک فیضِ نگاہِ یار، تجھے کتنا ڈھونڈا ہے دربدر میں نے یہ الگ بات، خود ہوا رُسوا تْجھ کو رکھا ہے مْعتبر میں نے یہ محبت کی چھاؤں بانٹے گا جو لگایا ہے یہ شجر میں نے ایک شاعر کی چاہتیں دے کر کر دیا ہے تمھیں امر میں نے سوگ دل کا تھا چار دن کا ادیب اور نبھایا ہے عمر…
Read Moreجلیل عالی ۔۔۔ شاید ذرا سا جان لے رازِ جہان کو
شاید ذرا سا جان لے رازِ جہان کو اک دوسرے میں دیکھ زمیں ، آسمان کو رکھا ہے اِس مقامِ یقیں پر گمان کو جب چاہے لا مکان بنا لیں مکان کو کشتی اُتارتا ہوں سمندر میں، تو ہَوا چلتی ہے دیکھ دیکھ رُخِ بادبان کو سینے میں ایک یاد ہمیشہ جواں رہی رکھا ہے دُور جس نے زمانے سے دھیان کو وہ دن بھی تھے کہ دیکھتے تھے دُور دُور تک طائر تمام رشک سے میری اُڑان کو بیٹھا ہوا ہے گھات میں کوئی مچان پر کوئی ہدف بنائے…
Read More