پرسشِ حال کی فرصت تمہیں ممکن ہے نہ ہو پرسشِ حال طبیعت کو گوارا بھی نہیں
Read MoreDay: جولائی 22، 2026
ادیب سہارنپوری … ترے نام کی تھی جو روشنی, اسے خود ہی تونے بجھا دیا
ترے نام کی تھی جو روشنی, اسے خود ہی تونے بجھا دیا نہ جلاسکی جسے دھوپ بھی, اُسے چاندنی نے جلادیا میں ہوں گردشوں میں گھرا ہوا, مجھے آپ اپنی خبر نہیں وہ شخص تھا مرا رہنما , اُسے راستوں میں گنوادیا جسے تو نے سمجھا رقیب تھا , وہی شخص تیرا نصیب تھا ترے ہاتھ کی وہ لکیر تھا, اسے ہاتھ سے ہی مٹادیا مری عمر کا ابھی گلستان ,تو کھلا ہوا ہے ضرور پر! وہ پھول تھے تری چاہ کے، انھیں موسموں نے گرا دیا
Read Moreعلامہ اقبال
ذرا سی بات تھی، اندیشۂ عجم نے اسے بڑھا دیا ہے فقط زیبِ داستاں کے لیے
Read Moreحمایت علی شاعر
ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﮯ ﺯﺍﻭﯾﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﻨﺤﺼﺮ ﮨﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﯾﮩﺎﮞ
Read More