سمتوں کا اِس قدر خیال ؟ سمتوں کا اِس قدر ملال؟
چاروں کے بیچ بیٹھ کر ، چاروں کا غم کیا گیا
Related posts
-
سیماب اکبر آبادی
سجاد اسیرِ جور ہوئے افسوس کسی نے یہ نہ کہا یہ پاؤں ستونِ کعبہ ہیں زنجیر... -
صبا اکبر آبادی
اُس بارگاہِ ناز کا اعجاز دیکھنا میں چپ رہا تو دستِ دعا بولنے لگے -
صبا اکبر آبادی
صبا سے جب کبھی پوچھا کہ نام کیا ہے ترا کہا صبا نے غلامِ محمدِ عربی
