عقیدت ۔۔۔ آصف ثاقب

میری آنکھوں میں منّور خانہ کعبہ
اور اشکوں کا ہے محور خانہ کعبہ

اس کے ارماں ہی مرے دل میں بسے ہیں
یاد رکھتے ہیں وہ اکثر خانہ کعبہ

اس سے ایماں کی خبر سب کے لیے ہے
اس کو جانو ہے مبشر خانہ کعبہ

دیکھنے کی یہ تمنا جو مری ہے
مجھ سا پائے گا قلندر خانہ کعبہ

خانہ کعبہ ہے سہارا ، میرا ثاقب
ہر قدم پر ہے مظفر خانہ کعبہ

Related posts

Leave a Comment