سلام بحضور امامِ عالی مقام ۔۔۔ شکیل جاذب

سلام بحضور امامِ عالی مقام

بس کُشتگانِ راہِ ابد گیر کر گئے
دشتِ بلا کی خاک کو اکسیر کر گئے

صدیوں سے جس کی ہمّتِ انساں تھی منتظر
وہ کام حق کی راہ میں شبّیر کر گئے

اک خیمۂ جمال کے بجھتے ہوئے چراغ
راہِ وفا میں روشنی تحریر کر گئے

عبّاس اپنے بازو کٹا کر لبِ فُرات
باطل کے دستِ ظلم کو زنجیر کر گئے

جو تیر کربلا میں چلے تھے حُسین پر
دراصل مُصطفےٰ (ص) کا جگر چیر کر گئے

آنکھوں میں اشک چاک گریباں سروں پہ خاک
کرب و بلا کے تذکرے دلگیر کر گئے

جاذب، حُسین معنیِ ذبحِ عظیم ہیں
جو خوابِ ابراہیم کو تعبیر کر گئے

Related posts

Leave a Comment