شوقِ منزل لیے چلو تنہا
رہ گزر کو سنوار دو تنہا
ہر مصیبت میں تم رہو تنہا
ظلم جو بھی ہو وہ سہو تنہا
وقت کی تند و تیز آندھی میں
جل سکو گر تو ہاں ! جلو تنہا
گر زباں میں ہو شعلۂ فطرت
بات جب بھی کہو ، کہو تنہا
آرزو کا چمن مہک اُٹھے
کبھی تنہائی میں ملو تنہا
کوئی پوچھے تو حال اُس دِل کا
جو بھری بزم میں بھی ہو تنہا
آفریں کون ساتھ دیتا ہے
زندگانی کے سانس لو تنہا
