چراغِ طاق نسیاں سے نہ جلتے ہو نہ بجھتے ہو
تمھیں اک دن ہَوا سے بھی لپٹ کر دیکھ لینا تھا
Related posts
-
پروین شاکر
کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں... -
-
